خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 172 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 172

172 ایسا تعلق باللہ ہو تو سمجھ لو کہ تم جنتی ہو گئے۔اس سے کم ہو تو بات مشتبہ ہے۔خدا ہی جانتا ہے تمہارا انجام کیا ہو گا تو یہ ایک ذریعہ ہے جس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ کون جنتی ہے جیسے کہ رسول کریم کے زمانہ میں خدا تعالیٰ نے آپ کی معرفت فرمایا تھا جنت ان کو ملے گی جو خدا کی راہ میں جان الا اور مال دیں گے۔چونکہ اس وقت جہاد کی ضرورت تھی۔اس لئے جان کی بھی شرط تھی اور اس وقت یہی بہشتی مقبرہ تھا اور اس کی علامت یہ تھی کہ جان اور مال دیا ہے۔مگر اب ایسا زمانہ ہے کہ پہلے زمانہ کی طرح جانیں دینے کی ضرورت نہیں ہے۔بلکہ اخلاق اور اعمال اور اموال کی قربانی کی ضرورت ہے۔کوئی کہے کہ رسول کریم ﷺ کے وقت بہشتی مقبرہ کیوں نہ بنایا گیا؟ اس کے متعلق یاد رکھنا چائے اس زمانہ میں حالات ایسے تھے کہ تاریخی طور پر بہشتی لوگوں کی قبروں کو محفوظ رکھنا مشکل تھا۔اس وقت ریلیں نہ تھیں کہ دو دراز سے لاشیں لائی جاسکتیں لوگوں میں اتنی جہالت تھی کہ قبروں کو اکھیڑ کر پھینک دینا معمولی بات سمجھتے تھے۔اس وجہ سے قبریں قائم نہ رہ سکتی تھیں۔اگر اس زمانہ میں بھی اس طرح کی سہولتیں ہوتیں جیسی اب ہیں تو ان کے لئے بھی الگ مقبرہ تجویز کیا جاتا۔مگر اس وقت لاشوں کا پہنچانا بہت مشکل تھا اور اب تو ممکن ہے کہ دنیا کے دوسرے سرے سے بھی لاش آجائے۔ہوائی جہاز کے ذریعہ امریکہ سے دو چار دن میں لاش یہاں پہنچ سکتی ہے۔پس اب وہ زمانہ ہے جب کہ لاشیں دور دور سے پہنچ سکتی ہیں اور قبروں کی حفاظت کی جاسکتی ہے۔اس لئے ظاہری علامت کے طور پر مقبرہ بہشتی بھی مقرر کر دیا گیا ہے۔ورنہ مقبرہ بہشتی تو پہلے سے بنی اسلام میں موجود ہے۔کئی حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت البقیع میں دفن ہونے والوں کے متعلق رسول کریم نے فرمایا۔یہ جنتی ہیں۔اے چنانچہ بعض نادانوں نے جب حضرت عثمان شہید ہوئے تو جو ان کے متعلق خیال کرتے تھے کہ کافر ہو گئے انہوں نے کہا ہم اس جگہ دفن نہ ہونے دیں گے۔کیونکہ ان کا خیال تھا کہ جو اس جگہ دفن ہو گا وہ جنتی ہو گا۔اس وجہ سے وہ جنت کے ٹھیکہ دار کہنے لگے ہم دفن نہ ہونے دیں گے۔انہوں نے یہ اسی لئے کہا کہ اس زمین کے متعلق رسول کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ اس میں دفن ہونے والا جنتی ہو گا۔میں اس کا نام وعدہ نہیں رکھتا نہ اس کا اور نہ اس کا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مقبرہ کے متعلق فرمائی۔بلکہ یہ خبر ہے اور وعدہ اور خبر میں فرق ہوتا ہے۔اس کے ساتھ علامتیں بتائی گئی ہیں کہ جس میں وہ پائی جائیں۔اس کو پہچان لو کہ جنتی ہو گا۔پس پہلے تو وصیت سے ٹھو کر غیر احمدیوں کو لگی۔اور یضل بہ کثیرا " اس طرح پورا ہوا۔