خطبات محمود (جلد 10) — Page 163
163 نصف سے کچھ زیادہ تعداد ہے جس نے چندہ ادا کرنے کا وعدہ کیا یا ادا کیا ہے۔اور ۴۰ فیصدی کے قریب ایسے لوگ ہیں جنہوں نے یا تو وعدے ہی نہیں لکھوائے۔اور اگر لکھوائے ہیں تو نہ لکھوانے کے برابر۔مثلاً کام کرنے والوں کی کچھ ایسی تعداد ہے کہ اگر اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ کبھی انہیں کام ملتا ہے اور کبھی نہیں ملتا۔اگر ان کی آمد کا نصف بھی شمار کیا جائے۔تو بھی چندہ خاص ان کی طرف ۲۰۱۵ روپے بنتا ہے۔انہیں چاہئے تھا۔کہ اسی قدر لکھاتے۔مگر انہوں نے ۴ یا ۵ روپے لکھائے ہیں۔اب ان کے کام کے لحاظ سے یہ تسلیم نہیں کیا جا سکتا کہ ایک لوہار یا ایک بڑھئی یا ایک معمار صرف دس بارہ روپے ماہوار کماتا ہے۔مگر جو شخص ۴ روپے چندہ خاص لکھاتا ہے۔وہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس کی ماہوار آمدنی دس یا بارہ روپے ہے حالانکہ اب قادیان میں مزدور بھی اس سے زیادہ کماتے ہیں ہمارے چندے مقررہ رقم کے مطابق ہونے چاہیں۔اور جس طرح دوسرے دوست اس کے مطابق چندہ لکھواتے ہیں۔اسی طرح باقیوں کو بھی لکھوانا چاہئے۔کوئی وجہ نہیں کہ جماعت کا ایک حصہ تو اس بوجھ کو اٹھائے اور دوسرا نہ اٹھائے۔جن کاموں پر روپیہ صرف ہو تا ہے۔وہ کسی کے ذاتی نہیں۔اسلام کی اشاعت جماعت کی تعلیم و تربیت غرباء کی مدد اور دوسرے جماعت کے کاموں پر روپیہ صرف ہوتا ہے۔اس کی ذمہ داری سب پر ہے۔در حقیقت اس قسم کی سستی اور غفلت ایمان کی کمزوری کی وجہ سے ہوتی ہے۔کیونکہ جس وقت ایک شخص قربانی کر کے آگے نکل رہا ہوتا ہے۔دوسرا شور مچا رہا ہوتا ہے کہ میرے پاس کچھ نہیں ہے۔میں کچھ نہیں دے سکتا۔ہم دیکھتے ہیں بسا اوقات دو اشخاص کی ایک ہی جتنی تنخواہ ہوتی ہے۔اور بسا اوقات ایک کے گھر کے آدمی دوسرے سے زیادہ ہوتے ہیں۔مگر وہ شخص زیادہ بشاشت اور خوشی سے چندہ دیتا ہے اور زیادہ مقدار میں دیتا ہے اس شخص کی نسبت جس کے لواحقین کم تعداد میں ہوتے ہیں۔مگر تنخواہ یا آمد مساوی ہوتی ہے۔ایسا شخص چندہ لکھوانے میں کمی کرتا ہے اور پھر ادائیگی میں مشکل پیدا کرتا ہے۔اس سے اس نتیجہ پر پہنچنے کے سوا چارہ نہیں رہتا کہ اس میں اخلاص کی کمی ہے۔ورنہ وجہ کیا ہے کہ ایک آدمی مسادی بلکہ بعض اوقات کم آمدنی رکھتے ہوئے زیادہ چندہ لکھاتا اور زیادہ اخلاص سے ادا کرتا ہے۔اور دوسرا چندہ لکھاتے وقت بھی سستی کرتا اور ادائیگی کے وقت اس سے بھی زیادہ سستی سے کام لیتا ہے۔جو لوگ احمدیت کو سچا سمجھ کر سلسلہ میں داخل ہوتے ہیں انہیں دیکھنا چاہئے کہ یہ فرق کیوں ہے؟ یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے جو دوسرے بتائیں تب معلوم ہو بلکہ ہر شخص اپنے متعلق خود دیکھ سکتا ہے کہ میرے ایسے بھائی موجود ہیں جن کے اخراجات مجھ سے زیادہ ہیں یا آمدنی مجھ سے کم ہے ان کو چندہ دیتے