خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 145 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 145

145 قبول کرتے جاتے ہیں اور جب کسی سلسلہ کی اشاعت مختلف بلاد میں ہونی شروع ہو جاتی ہے تو تربیت کا پہلو ہمیشہ کمزور ہوتا جائے گا۔یہی وجہ ہے کہ انبیاء کے زمانہ میں ان کو ماننے والوں کا جو رنگ نظر آتا ہے وہ بعد میں نظر نہیں آتا۔اس کی وجہ یہ نہیں کہ جماعت روحانیت میں کمزور ہو جاتی ہے۔بلکہ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ جماعت ایسی جگہوں میں بھی پیدا ہو جاتی ہیں۔جہاں تربیت پورے طور پر نہیں ہو سکتی تربیت کرنے والوں کی ذمہ داریاں اتنی وسیع ہو جاتی ہیں کہ قریب کے علاقہ کی بھی پوری پوری نگرانی نہیں کی جاسکتی اس وجہ سے بعض لوگوں کی تربیت میں کمی رہ جاتی ہے۔اور نقص دور نہیں ہو سکتا۔مخالفین کو ایسے لوگوں کے نقص تو نظر آجاتے ہیں۔مگر ان ہزاروں اور لاکھوں انسانوں کی خوبیاں جن کی تربیت مکمل ہوتی ہے۔اور ان سے بھی اچھے ہوتے ہیں جو ان کے آباؤ اجداد کہلاتے تھے۔نظر نہیں آتیں۔ان کی نیکی نا تربیت یافتہ لوگوں کی برائی کے نیچے چھپ جاتی ہے۔جیسے ایک مچھلی سارے تالاب کو گندہ کر دیتی ہے۔اسی طرح کمزور لوگ جو تربیت سے پورا حصہ نہیں پاتے۔اپنے نقائص سے باقیوں کی عمدہ حالت کو بھی پوشیدہ کر لیتے ہیں۔پس سب سے زیادہ خطرہ کسی جماعت کے لئے اس وقت ہوا ہے جب اس کی کثرت ہو جاتی ہے۔آپس میں ایک دوسرے سے معاملے پڑتے ہیں۔جن کی وجہ سے شقاق اور تفرقہ پیدا ہو جاتا ہے۔جب وہ تھوڑے سے ہوتے ہیں تو چونکہ ان کے تعلقات غیروں سے ہوتے ہیں۔اس لئے لڑائی جھگڑا شقاق اور اختلاف غیروں سے ہوتا ہے۔اس وقت ان کی نظروں میں آپس کے عیب پوشیدہ ہوتے ہیں۔یا یوں کہو کہ ایسی حالت میں خواہ مخواہ انہیں ایک دوسرے کے عیب تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔مگر جب امن ہو جائے اور دیر تک غیروں سے امن میں رہنے لگیں۔تو بجائے غیروں کی عیب گیری کرنے کے آپس کی عیب جوئی میں لگ جاتے ہیں۔جس طرح دوسرے سلسلوں کے ساتھ یہ بات لگی ہوئی تھی۔اسی طرح ہماری جماعت کی ترقی کے ساتھ بھی یہ بات لگی ہوئی ہے اور جس طرح دوسروں کو اس فتنہ کا مقابلہ کرنا ضروری تھا اسی طرح ہمارے لئے بھی ضروری ہے کہ ہم بھی اس کا مقابلہ کریں۔میں نے دیکھا ہے جو جماعتیں زیادہ پرانی ہیں۔اور جن کی تعداد زیادہ ہے اور وہ اپنے آپ کو امن میں سمجھتے ہیں ان میں آپس میں شقاق کے آثار پائے جاتے ہیں۔لیکن جہاں کے لوگ دشمن کے مقابلہ میں ڈٹے ہوئے ہیں۔اور جماعتیں نئی ہیں۔وہاں شقاق نہیں۔بلکہ محبت اور پیار ہے۔جہاں جہاں بھی۔تبلیغ میں سستی پائی جاتی ہے۔چونکہ وہ لوگ کام کرنے کے تو عادی ہو چکے ہیں۔اس لئے اگر غیروں میں کام نہیں کرتے۔تو آپس میں ہی لڑنے جھگڑنے لگ جاتے ہیں۔اس لئے میں دوستوں کو اس