خطبات محمود (جلد 10) — Page 144
144 16 باہم عفو اور درگزر سے کام لیں (فرموده ۲۳ اپریل ۱۹۲۶ء) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : مسلمانوں کے لئے اللہ تعالٰی نے اپنے فضل سے خود ایک صحیح طریق عمل بیان فرمایا تھا اور وہ طریق عمل بیان فرمایا تھا جو کہ باقی تمام مذاہب کی تعلیم سے اعلیٰ اور ارفع اور اکمل ہے۔مگر باوجود اس کے میں نے دیکھا ہے کئی لوگ اس قسم کے ہیں جو اس طریق کو چھوڑ کر اپنے لئے نئی راہیں اختیار کر لیتے ہیں۔اور اس کی وجہ سے خود بھی دکھ اور تکلیف میں پڑتے ہیں۔اور دوسروں کو بھی تکلیف میں ڈالتے ہیں۔ہماری جماعت اب خدا کے فضل سے روز بروز ترقی کر رہی ہے۔اور ایسے دور دراز علاقوں میں پھیل رہی ہے۔جہاں کے لوگ پہلے ہماری جماعت کا نام بھی نہ جانتے تھے۔اور انہیں یہ بھی معلوم نہ تھا کہ دنیا میں کسی شخص نے مسیح اور مہدی ہونے کا دعوی کیا ہے۔انہیں جب یہ علم پہنچا تو اس کو پا کر انہوں نے اس پر غور و فکر کیا۔بعض دفعہ اس کی مخالفت بھی کی۔اس سے استہزاء بھی کیا۔لیکن آخر بعض کے دل خدا تعالٰی نے کھول دیئے اور وہ سلسلہ میں داخل ہو گئے۔بات یہ ہے کہ دنیا کے دور دراز ممالک میں خود بخود سلسلہ اپنے لئے آپ رستہ بنا رہا ہے۔جس طرح دریا کا پانی جب چلتا ہے۔تو آگے سے آپ ہی رستہ بناتا جاتا ہے۔انسانوں کے لئے سڑکیں تیار کی جاتی ہیں۔لیکن دریاؤں کے لئے رستہ نہیں بنایا جاتک دریا پہاڑوں اور جنگلوں میں خود بخود رستہ بنا کر گزر جاتے ہیں۔ان کے آگے جو کچھ آئے اسے خود بخود ہٹا لیتے ہیں۔غرض جس طرح دریاؤں کے لئے رستہ تیار کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔اسی طرح سلسلہ احمدیہ کے لئے بھی تمام الہی سلسلوں کی مثال میں ان کی مشابہت میں اور ان کی مانند کسی رستہ بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔اس کے لئے آپ ہی آپ رستہ بنتا جاتا ہے اور جماعت بڑھتی جاتی ہے نئے ممالک نئی بستیوں اور نئے براعظموں کے لوگ