خطبات محمود (جلد 10) — Page 131
131 دی گئی ہے کہ جو چاہے اس سے فائدہ اٹھا لے۔بلکہ یہ کہ جو لوگ اپنے اعمال کے لحاظ سے اس کے مستحق ہوتے ہیں ان کے لئے یہ بنائی جاتی ہے۔پس یہ بات خوب اچھی طرح یاد رکھنی چاہئے۔کہ لیلتہ القدر اس رات میں پیدا نہیں کی جاتی جس کی طرف منسوب ہوتی ہے۔بلکہ پچھلے سال اور پچھلے مہینے اسے بناتے ہیں۔جس کے پچھلے اعمال اعلیٰ ہوں گے۔اس کے لئے لیلتہ القدر ہو گی۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ لیلتہ القدر میں یہ اشارہ ہے کہ جس کے ابتدائی ایام نیکی میں گذرتے ہیں۔اس کے انتہائی ایام میں بھی خدا تعالیٰ کی تائید اس کے شامل حال ہو جاتی ہے۔جیسا کہ رمضان کے ابتدائی ایام میں جو خدا تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے۔اس کے لئے آخری ایام میں ایسا وقت آتا ہے کہ خدا اس کے لئے فضل نازل کرنے کا خاص موقعہ رکھتا ہے۔پس لیلتہ القدر میں اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ اگر انسان اپنی زندگی کی ابتدائی گھڑیوں کو خدا تعالی کی رضا میں صرف کرے۔تو اس کی انتہائی گھڑیاں خدا تعالیٰ خود اپنی رضا میں صرف کرا لے گا۔اگر کوئی شخص اپنے طاقت کے ایام میں خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔تو اس وقت جب کہ بڑھاپے کی وجہ سے اور کمزور ہو جانے کے باعث خدا تعالیٰ کی خاطر جسمانی اور مالی قربانی نہ کر سکے گا۔خدا تعالی خود اس سے کرا لے گا۔پس رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں جس لیلتہ القدر کا ذکر کیا گیا ہے۔وہ دراصل انسان کے انجام کی طرف اشارہ ہے۔اگر ایک انسان نے متواتر خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت کی۔اس کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کی۔تو جب اس پر ایسا زمانہ آئے گا۔جب وہ اپنی نا طاقتی کی وجہ سے خدمت دین میں حصہ نہ لے سکے گا۔تو خدا تعالیٰ خاص طور پر اس کی مدد فرمائے گا۔اور اس کی باتوں میں وہ اثر پیدا کر دے گا۔جو دوسروں کے کاموں میں بھی نہیں ہو گا۔کیونکہ اس نے اپنی ساری عمر خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول میں خرچ کر دی۔اور دوسرے ابھی امتحان میں ہیں۔نہ معلوم ان کا کیا نتیجہ ہو۔پس لیلتہ القدر اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ ایک انسان جس نے اپنی ساری عمر خدا تعالیٰ کی رضا اور اس کے دین کی خدمت میں صرف کر دی وہ کمزور ہو جانے کی وجہ سے جب چھار کے لئے نہیں جا سکے گا۔یا مالی قربانی نہیں کر سکے گا۔اس وقت اس کے دل میں جو نیک ارادے پیدا ہوں گے۔ان کا ہی اس کو اتنا ثواب ملے گا۔جو جوانوں کو ان کے کاموں کا نہیں ملے گا۔کیونکہ ان کی زندگی کی تو ابھی ابتدا ہوئی ہے۔اور وہ اپنی زندگی اور قومی خرچ کر کے انتہا کو پہنچ چکا ہے۔پس لیلتہ القدر پیدا کی جاتی ہے اور خدا تعالیٰ کی راہ میں کام کرنے والوں کے انجام کی خوبی کی