خطبات محمود (جلد 10) — Page 126
126 حق تو نہیں دوں گا۔مگر اس کا بدلہ اور دیدوں گا۔تو دعا کے لئے ایک شرط تو یہ ہے کہ ان اصول کے ماتحت مانگی جائے جو خدا تعالیٰ نے اور رسول کریم اینا نے قرار دیئے ہیں اور اس یقین سے مانگی جائے کہ کبھی رد نہ ہو گی۔تو جو دعا خدا تعالیٰ کے قانون کے ماتحت مانگی جائے وہ کبھی رد نہیں ہوتی۔اور اگر رد ہوتی نظر بھی آئے۔تو بھی انسان کے لئے فائدہ ہی کے سامان ہوتے ہیں۔تو دعائیں ہر رنگ میں قبول ہوتی ہیں۔حتی کہ وہاں بھی قبول ہو جاتی ہیں جہاں خدا تعالیٰ کی طرف سے فیصلہ ہو جاتا ہے کہ ایسا نہ ہو گا۔بسا اوقات ایک حالت کا تغیر نا ممکن معلوم ہوتا ہے۔اس کے متعلق رڈیا اور کشوف بھی ہو جاتے ہیں۔مگر جب دعا کی جاتی ہے تو وہ حالت بدل جاتی ہے۔میں نے ایک عزیز کے متعلق رڈیا دیکھی۔اور اس کے اثرات بھی ظاہر ہونے لگ گئے مگر میں نے اس کے لئے دعا کی تو خدا تعالی نے قبول کر لی۔تو دعا جو عاجزانہ طور پر کی جاتی ہے تقدیر کو بھی بدل دیتی ہے۔تقدیر دو قسم کی ہوتی ہے۔ایک علم والی اور دوسری جو ارادہ کے بعد کی جاتی ہے۔وہ بدل جاتی ہے۔اور ایسے رنگ میں بدلتی ہے۔کہ وہم بھی نہیں ہوتا۔اس لئے میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ دعائیں کریں اور ان ایام میں دعاؤں پر بہت زور دیں مگر یاد رکھیں ان کا اصلی مقصود یہی ہو کہ خدا مل جائے۔دنیا کے لئے بھی اگر دعا کریں تو منع نہیں مگر یہ نظریہ ہو کہ دنیا کی جتنی بھی حاجات ہیں ان کا مانگنا تو ایک ذریعہ اور بہانہ ہے خدا تعالیٰ سے ملنے کا اصل چیز خدا کی محبت اور اس کا قرب ہی ہے۔اس کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص اپنے محبوب سے جدا ہو کر جب جاتا ہے۔اور اسے کوئی اور بات یاد آجاتی ہے۔تو پھر ملنے کے لئے واپس آجاتا ہے۔اس وقت وہ دل میں خوش ہو رہا ہوتا ہے۔کہ ملاقات کا ایک اور موقعہ مل گیا اور ایک اور موقعہ پیدا ہو گیا۔پس اس نیت اور اس ارادہ سے خدا کے سامنے جاؤ پھر خواہ اولاد مانگو۔خواہ مال مانگو۔خواہ مدارج میں ترقی مانگو۔خواہ اپنی مشکلات کے دور ہونے کے لئے دعا کرو۔یہ سب کر سکتے ہو مگر جب بھی تم کچھ مانگ رہے ہو یہی سمجھو کہ اس چیز کو نہیں بلکہ خدا کو مانگ رہے ہیں۔اس حالت میں اگر وہ چیز تم کو نہ بھی ملے تو بھی ناامیدی اور بد دلی نہ ہوگی۔کیونکہ اصل غرض تو خدا تھی۔وہ چیز تو محض بہانہ تھی۔اصل غرض پوری ہوتی جا رہی ہے تو دوسری چیزوں کا کیا ہے۔اس وجہ سے مایوسی نہ ہوگی۔پس یقین اور وثوق کے ساتھ خدا تعالیٰ کو مانگو آج کل برکات کے دن ہیں۔جتنا انسان ایمان میں ترقی کرتا جائے اس کے لئے ایسے دن پیدا ہو جاتے ہیں مگر ہر دن ایسا نہیں ہو تا کہ عید کا دن ہو بے شک ایسے لوگ ہوتے ہیں۔جن کے لئے ہر روز روز عید نیست والی مثال غلط ہو جاتی ہے۔خدا تعالی ان کے لئے ہر روز عید بنا دیتا ہے۔مگر باقیوں کے لئے خاص خاص مواقع ہوتے