خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 123 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 123

123 کھانے کے لئے سحری کے وقت اٹھ سکتے ہو۔تو باقی گیارہ مہینے عبادت کے لئے کیوں نہیں اٹھ سکتے۔تو رمضان کا مہینہ بتاتا ہے کہ دعا کرنے کے لئے بہترین موقعہ سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔پس میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ رمضان سے پورے طور پر فائدہ اٹھائیں۔کیونکہ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے برکات نازل ہونے کے خاص دن ہیں۔اس کی مثال یہ ہے جیسے ایک سخی اپنے خزانہ کے دروازے کھولکر اعلان کر دے کہ جو آئے لے جائے ان دنوں خدا تعالٰی بھی اپنی برکتوں اور رحمتوں کے دروازے اپنے بندوں کے لئے کھول دیتا ہے۔اور کہتا ہے آؤ آکر لے جاؤ۔ہاں اس کے ساتھ شرط ضروری ہے کہ تمہارا کوئی مطالبہ قانون الہی کے خلاف نہ ہو۔اور جن باتوں سے خدا تعالیٰ نے خود روک دیا ہے۔ان کا مطالبہ نہ ہو۔پھر خدا پر پورا یقین اور اس کی بخشش پر کامل بھروسہ ہو۔ورنہ جو ڈرتے ہوئے اور نا امید دل کے ساتھ خدا کے حضور جاتا ہے وہ نا کام آتا ہے۔کیونکہ وہ خدا تعالیٰ پر بدظنی کرتا ہے۔اور بدظنی کرنے والا سزا کا مستحق ہوتا ہے۔وہی انعام لے کر آتا ہے۔جو وثوق اور یقین کے ساتھ جاتا ہے۔اور کبھی ناکام نہیں لوٹتا۔اور کبھی ناکام نہیں آتا۔خدا تعالیٰ کو اپنی طاقتوں کے متعلق غیرت آتی ہے۔وہ کہتا ہے جب بندہ عجز اور انکسار کے ساتھ میرے سامنے آیا ہے۔تو یہ میری الوہیت کی شان کے خلاف ہے کہ میں اسے ناکام کر دوں۔پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ اس مبارک مہینہ میں دعائیں کرو۔اور وثوق اور یقین کے ساتھ کرو۔بہت لوگ شکوہ کرتے ہیں۔کہ ہماری دعائیں قبول نہیں ہوتیں۔مگر وہ جانتے نہیں کہ دعا کس وثوق اور کس یقین کے ساتھ کرنی چاہئے۔خدا تعالیٰ رمضان کے ذکر میں فرماتا ہے۔واذا سألك عبادی عنی فانی قریب (البقرہ ۱۸۷) میرے بندے اگر میرے بارہ میں سوال کریں تو انہیں کہو میں تو بالکل قریب ہوں۔اس میں یہ حکمت بیان کی گئی ہے کہ انسان کو اپنی زندگی کی بنیاد محبت پر رکھنی چاہئے اور دعاؤں کی بنیاد بھی محبت پر ہی ہے۔دعا انسان اس لئے نہ مانگے کہ مجھے یہ چیز مل جائے۔یا وہ چیز مل جائے۔بلکہ اس لئے مانگے کہ اگر خدا تعالیٰ سے نہ مانگوں تو اور کس سے مانگوں نیتوں سے کاموں کے انجام میں بھی بہت فرق پڑ جاتا ہے۔بسا اوقات انسان ایک چیز اس لئے مانگتا ہے کہ تعلق پیدا ہو جائے۔ماں باپ سے بچہ بسا اوقات اسی غرض سے سوال کرتا ہے۔بچہ جب ماں باپ سے کوئی چیز مانگتا ہے۔تو اس لئے کہ اس کا دل چاہتا ہے ماں باپ سے مانگوں اور ان سے چھٹوں ورنہ اس چیز کی اسے ضرورت نہیں ہوتی۔اس وقت اتنی خواہش بچہ کو اس چیز کی نہیں ہوتی جو مانگ رہا ہوتا ہے۔جتنی خواہش ماں کی گود میں بیٹھنے یا باپ سے پیار کرنے کی ہوتی ہے۔