خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 122 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 122

122 ہوتا۔بلکہ اس کی زندگی کا تقاضا ہے۔کونسا انسان ہے جسے خدا تعالی کہتا ہے کھانا چھوڑ دے اور وہ بالکل چھوڑ دے تو نہ مرے اور کون سا انسان ہے جسے خدا کہتا ہے پینا چھوڑ دے۔اور وہ بالکل چھوڑ دے تو نہ مرے۔اسی طرح خدا تعالیٰ کہتا ہے۔اگر مرد ہے تو عورت کے پاس نہ جائے۔اور اگر عورت ہے تو مرد کے پاس نہ جائے۔اس پر مستقل عمل کیا جائے تو نسل تباہ ہو جائے اور یہ تینوں باتیں ایسی ہیں کہ انسان کی تباہی کا باعث بن سکتی ہیں۔مگر جب خدا تعالیٰ ان کے چھوڑنے کا حکم دیتا ہے۔تو انسان روزہ رکھ کر چھوڑ دیتا ہے۔آگے خدا کہتا ہے۔کہ روزہ کھول تو کھولتا ہے۔ورنہ وہ تو اپنی طرف سے یہ ظاہر کرتا ہے کہ اگر خدا کے روزہ نہ کھول تو نہ کھولوں گا اور مرجاؤں گا۔اگر خدا کے عورت کے پاس مرد نہ جائے۔اور مرد کے پاس عورت تو وہ نہ جائیں گے۔اور نسل تباہ ہو جائے گی۔مگر چونکہ خدا تعالیٰ اجازت دیتا ہے اس لئے ایسا کیا جاتا ہے۔پس جب روزہ رکھ کر انسان ان احکام کی تعمیل کرتا ہے۔جن سے اس کی موت لازمی ہے۔تو پھر وہ امور جن سے اس کی زندگی وابستہ ہے ان کو اگر نہ کرے تو ماننا پڑے گا جو رمضان میں یہ ظاہر کرتا ہے کہ میں خدا کی مشابہت اختیار کرنے کے لئے کھانا پینا اور تعلقات مرد و عورت چھوڑتا ہوں یہ اس کا تمسخر ہوتا ہے اور محض دھوکہ ہوتا ہے۔کیا کسی کے متعلق یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ کسی کی خاطر موت قبول کرنے کے لئے تو تیار ہے۔لیکن اگر وہ اس سے پیار کرے۔تو پیار کرانے کے لئے تیار نہیں۔یا یہ کہ فلاں کے لئے فلاں شخص اپنا مال چھوڑنے کے لئے تو تیار ہے۔لیکن اگر وہ اس پر احسان کرے۔تو اسے رد کر دے گا۔یہ بات نہیں مانی جا سکتی اور اگر مانی جا سکتی ہو تو معلوم ہوا۔اس شخص کے افعال مجنونانہ ہیں۔یا ان میں کوئی اس کی مخفی غرض ہے اس میں حقیقی اخلاص نہیں۔تو رمضان حقیقی فرمانبرداری کی طرف توجہ دلاتا ہے۔اور ساتھ ہی دعاؤں کی طرف متوجہ کرتا ہے۔اور انسان پر اس کے نفس کا دھوکہ ظاہر کر دیتا ہے۔انسان کہتا ہے۔میں رات کو تہجد کے لئے نہیں اٹھ سکتا۔اس وقت میرے لئے اٹھنا مشکل ہوتا ہے۔۔مگر رمضان میں وہ اٹھتا ہے۔کیونکہ اور لوگ بھی اٹھ رہے ہوتے ہیں۔ان کو دیکھ کر یا ان کی نقل کے لئے اٹھتا یا کھانا کھانے کے لئے اٹھتا ہے۔کیونکہ سمجھتا ہے اگر میں سحری کو کھانا نہ کھاؤں گا تو دن بھر بھوکا رہوں گا۔پس جب کہ رمضان میں انسان سحری کے وقت اٹھ سکتا ہے۔تو کیا وجہ ہے کہ اور دنوں میں نہ اٹھ سکے۔پس رمضان کا مہینہ ایسے انسانوں کو شرمندہ کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ تمہارے اندر طاقت ہے کہ اور راتوں کو بھی اٹھ کر خدا تعالیٰ کے آگے سر بسجود سکو۔یہ کہنا کہ اٹھ نہیں سکتے یہ صحیح نہیں۔تم سستی سے نہیں اٹھتے۔اگر تم ایک مہینہ کھانا ہو