خطبات محمود (جلد 10) — Page 120
120 ان کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام فرمایا کرتے تھے کہ ان کے لئے رمضان خوید بن جاتا ہے۔وہ موٹے ہو جاتے ہیں۔مگر خواہ کوئی کس قدر مقوی کھانے کھائے۔روزہ کے وقت ضعف ضرور ہوتا ہے۔ہماری جماعت کو چاہئے کہ جہاں تک ممکن ہو سکے روزہ کی قدر کرے۔جن کو خدا تعالیٰ طاقت دے وہ سارا مہینہ پورا کریں۔اور جن کو کسی شرعی عذر کی بنا پر بعض روزے چھوڑنے پڑیں وہ دوسرے اوقات میں پورے کریں۔ہمارے ملک میں اس بارے میں بہت سستی پائی جاتی ہے۔وہ جو روزوں میں سارا مہینہ روزے رکھ لیتے ہیں۔ان کے بھی اگر کچھ رہ جائیں تو دوسرے ایام میں سستی کرتے ہیں۔حالانکہ یہ بھی خدا تعالیٰ کا ہی حکم ہے۔کہ من كان مريضا " او على سفر فعدة من ایام اخر (البقره ۱۸۶) مگر ۷۰ ۸۰۰ فیصدی لوگ ایسے ہوں گے۔جو رمضان میں جس قدر روزے رکھ سکیں گے رکھیں گے۔اور جو باقی رہ جائیں گے وہ رکھنے کی کوشش نہ کریں گے۔وہ لوگ جو سالہا سال بیمار رہتے ہوں۔ان کو چھوڑ کر دوسروں کو کوشش کرنی چاہئے کہ جو روزے رہ جائیں وہ دوسرے ایام میں رکھ لیں۔پھر روزوں میں دعائیں قبول ہوتی ہیں۔یہ بات قرآن کریم سے بھی معلوم ہوتی ہے اور حد میشوں سے بھی۔کیونکہ رمضان کا ذکر کرتا ہوا خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔مجھ سے مانگو تو میں تمہیں دوں۔کیا عجیب بات ہے لوگ ان سے مانگتے ہیں جو مانگنے پر بھی کچھ نہیں دیتے۔لیکن خدا تعالیٰ جو کہتا ہے۔میں دینے کے لئے تیار ہوں مجھ سے مانگو۔اس سے نہیں مانگتے۔رمضان کے دنوں میں چونکہ خصوصیت سے دعائیں قبول ہوتی ہیں۔اس لئے اپنے لئے اور اسلام کی ترقی کے لئے کثرت سے دعائیں کرنی چاہیئیں۔خدا تعالیٰ ہم کو اپنے فضل سے اعلیٰ سے اعلیٰ نتائج روزوں سے عطا کرے۔اور ایسا نہ ہو کہ ہم نفس کی تکلیف بھی اٹھائیں۔اور کچھ حاصل بھی نہ ہو۔اور خدا تعالٰی ہماری اس حقیر اور نا چیز قربانی کو جسے ہم قربانی بھی نہیں کہہ سکتے۔اور نہ خدمت کہہ سکتے ہیں۔کیونکہ یہ صرف ارادہ اور نیت ہی ہے اور اس بات کا اظہار ہے کہ خدا کے لئے قربانی کے لئے تیار ہیں۔خدا اسے قبول فرمائے۔اور دنیا میں بھی اس کے نیک نتائج پیدا کرے۔اور ہمارا قدم اس راستہ پر ہو جو وصال الہی کی طرف لے جاتا ہے۔اور اس راستہ کی طرف نہ ہو جو ضلالت اور گمراہی کی طرف لے جاتا ہے۔الفضل ۶ اپریل ۱۹۲۶ء) ا بخاری کتاب الصوم باب الى صائم اذا سم ٢ البقره ۱۸۶