خطبات محمود (جلد 10) — Page 116
116 کرتا ہے جس سے الوہیت کے سمجھنے کی طاقت اسے حاصل ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ رسول کریم نے فرمایا ہے۔اور اعمال کی تو مختلف جزائیں ہیں۔مگر روزے کی جزا خود خدا تعالیٰ ہے ا۔اس کا یہی مطلب ہے کہ ان دنوں خدا تعالیٰ کی مشابہت انسان اختیار کرتا ہے۔غرور اور تکبر سے نہیں۔بلکہ خدا تعالی ہی کے حکم سے برابری کے دعوئی سے نہیں بلکہ اطاعت اور فرمانبرداری کے رو سے انسان اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی صفات کا مظہر بناتا ہے۔اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جب تک انسان میں خدا کی صفات جلوہ گر نہ ہو جائیں وہ نجات نہیں پا سکتا۔کیونکہ بغیر عرفان الہی کے کوئی نجات نہیں۔اور جس ہستی کا ظاہری آنکھوں سے مشاہدہ نہیں ہو سکتا۔اس کے مشاہدہ کا ایک ہی طریق ہے کہ اندرونی طور پر اس کا مشاہدہ کریں۔دیکھو وہ چیزیں جن کو دنیا میں انسان اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتا۔ان کو اپنے اندر جذب کر کے محسوس کرتا ہے۔ہم ہوا اور گیس کو نہیں دیکھ سکتے۔مگر جب وہ ہمارے جسم میں داخل ہوتی ہیں تو پتہ لگتا ہے۔اسی طرح بجلی کو ہم نہیں دیکھ سکتے۔بلکہ اس کے اثر سے محسوس کرتے ہیں۔پس ہم خدا تعالیٰ کو جسمانی طور پر نہیں دیکھ سکتے اس لئے اس کی طاقت کو جذب کر کے اس کا عرفان حاصل کر سکتے ہیں۔خدا تعالیٰ کی خدائی اور الوہیت اسی طرح انسان کے اندر داخل ہوتی ہے۔جس طرح بجلی۔جس انسان میں بجلی داخل ہو جائے وہ بجلی نہیں بن جاتا مگر بجلی والا ضرور بن جاتا ہے۔اسی طرح انسان خدا نہیں ہو سکتا۔لیکن خدائی صفات کا مظہر ہو کر خدا والا ضرور ہو جاتا ہے۔یہ تو نا ممکن ہے کہ کوئی چیز جو چیز کہلانے کی مستحق ہے۔اپنے آپ کو ایسا فنا کر دے کہ وہ بالکل نہ رہے۔کیونکہ جو کچھ مٹتا اور فنا ہوتا ہے۔وہ آثار اور نشان ہوتے ہیں۔نہ کہ اصل چیز۔ہم گوشت اور سبزی کھاتے ہیں۔بظاہر وہ مٹ جاتے ہیں مگر اصل میں نہیں مٹتے۔جو کچھ مٹتا ہے وہ ان کی ظاہری شکل و صورت ہوتی ہے۔پس جب ادنیٰ سے ادنی چیز بھی مٹ نہیں سکتی۔اور ایک جنس غیر جنس کا وجود نہیں بن سکتی۔تو کیونکر ممکن ہے کہ انسان مٹ کر خدا بن جائے۔یا خدا مٹ کر انسان بن جائے۔یہ جہالت اور نادانی کی باتیں ہیں۔مگر اس میں شک نہیں کہ خدا تعالیٰ اپنے صفات میں تغیر کر لیتا اور تنزل کر کے ان صفات کو اس طرح انسان میں ظاہر کرتا ہے کہ انسان سمجھ سکے۔اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ سمیع ہے اور انسان کو خدا کی طاقت سماعت حاصل ہو جاتی ہے۔مگر اس میں بھی شبہ نہیں کہ انسان میں سمیع ہونے کی جو طاقت ہے۔وہ اس نے خدا ہی کی طاقت سے حاصل کی ہے۔اسی طرح ہر طاقت جو انسان کو حاصل ہے وہ خدا تعالیٰ کی قوت اور طاقت سے حاصل کردہ ہے۔بتاؤ انسان میں سننے اور دیکھنے کی طاقت کہاں سے آئی۔خدا تعالیٰ کی طرف سے