خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 110 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 110

110 العين زمینداروں کے لئے چندہ خاص ایک سیر اور سوا سیر اور ڈیڑھ سیر فی من پیدوار پر مذکورہ بالا ہدایتوں کے ماتحت ہو گا۔) اس کے علاوہ ماہواری چندہ کی طرف بھی توجہ دلاتا ہوں۔اس میں بھی بعض جگہ سستی کی جا رہی ہے جن اعراب کا ذکر ان آیات میں ہے۔جو میں نے پڑہی ہیں۔انہوں نے حضرت ابوبکر کے زمانہ میں کہہ دیا تھا رسول کریم ﷺ کے وقت جو ہم زکوۃ دیتے رہے ہیں۔اب کیوں دیں۔خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں ان کے متعلق پیش گوئی فرما دی تھی کہ مومن وہ ہوتا ہے۔جس کے اعمال میں کمی نہ آئے۔مگر یہ لوگ تو اعمال چھوڑ دیں گے۔پس مومن وہی ہے۔جو اپنے اعمال میں کمی نہ کرے اگر کوئی فی الواقعہ مومن ہے اسے یہ یقین ہے کہ مرنے کے بعد زندگی ہے اور ہمیشہ ہمیش کی زندگی ہے۔اور اس وقت دنیا کی قربانیوں کے بدلے ملیں گے۔تو وہ چندہ دیکر کب سمجھ سکتا ہے کہ میں نے بھی کچھ کام کیا ہے۔انسان کو اتنا تو سوچنا چاہئے کہ وہ اپنی آمدنی کا 90 فیصد اس زندگی پر خرچ کرتا ہے۔جو ساٹھ ستر یا سو سال کی ہے۔اور صرف دس فیصدی اس زندگی کے لئے دیتا ہے۔جو ہمیشہ کی زندگی ہے۔تو وہ کونسا بڑا کام کرتا ہے۔خدا تعالیٰ کا یہ کتنا بڑا احسان ہے کہ اس دنیا کی زندگی جو اگلی زندگی کے مقابلہ میں ایک منٹ کی بھی حیثیت نہیں رکھتی اس کے متعلق تو کہتا ہے کہ اپنی آمدنی کا 90 فیصد خرچ کر لو لیکن جو ہمیشہ ہمیش کی زندگی ہے اس کے متعلق کہتا ہے ۱۰ یا ۱۵ فیصدی خرچ کر دو۔پس ایک مسلمان جو اگلی زندگی پر ایمان رکھتا ہے۔اور یہ بھی اس کا ایمان ہے کہ اس دنیا کی قربانی کا بدلہ اس جہاں میں ملے گا۔اس کے دل پر قربانیاں بجائے اس کے کہ کسی قسم کی میل پیدا کریں۔وہ احسان سمجھتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے یہ موقعہ دیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:- قل اتعلمون الله بدينكم والله يعلم ما في السموات وما فی الارض والله بكل شئی علیم اگر کوئی شخص قربانی نہیں کرتا تو پھر اسلام میں داخل کس بات کے لئے ہوا ہے۔کیا اسلام لانے کی غرض یہ ہے کہ وہ منہ سے کہدے کہ میں مومن ہوں، میں احمدی ہوں۔ان سے کہدے کیا تمہارے مومن ہونے اور احمدی ہونے کا علم خدا کو نہ تھا۔جو تم منہ سے یہ کہہ کر اسے بتانا چاہتے ہو۔یاد رکھو اللہ ہر بات جانتا ہے۔جو آسمانوں اور زمین میں ہے۔پھر فرماتا ہے۔ہمنون علیک ان اسلموا ، قل لا تمنوا على اسلا مكم ، بل الله يمن عليكم ان هذا كم للايمان - ان كنتم صادقین جو شخص بے عمل ہے کوئی قربانی خدا کی راہ میں نہیں کرتا۔اس کی تو بات ہی اور ہے۔جو کوئی عمل کر کے کہتا ہے۔میں نے یہ کام کیا۔اور اس طرح احسان جتاتا