خطبات محمود (جلد 10) — Page 109
109 جماعت میں شامل ہو کر بھی کسی کے اعمال میں ثبات اور استقلال پیدا نہ ہو۔وہ اعمال میں سست رہے۔تو پھر کون آکر اس کی اصلاح کر سکتا ہے۔پس میں دوستوں سے خاص طور پر کہتا ہوں۔کہ اگر پہلے نہیں تو اس رمضان میں ہی ہر قسم کی سستی اور کو تاہی دور کر دیں اور ایسے مومن بن کر دکھا دیں جن کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔لا يلتكم من اعمالکم شیئا " ان کے اعمال میں کمی نہیں ہو گی۔ان کا قدم کبھی پیچھے نہ پڑے گا۔وہ قربانی میں زیادہ سے زیادہ بڑھتے جائیں گے۔میں نے اپنی جماعت کو متواتر اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے۔کہ ان دنوں نہایت مالی مشکلات درپیش ہیں۔اور سارا بوجھ اٹھانا جماعت کا ہی کام ہے۔میں نے جلسہ سالانہ میں اعلان کیا تھا کہ مالی مشکلات کی وجہ سے کچھ عرصہ تک ہر سال چندہ خاص لینا پڑے گا۔تب جا کر کام چلے گا۔میں نے کہا تھا دوست اپنی ایک ماہ کی آمدنی کا چالیس فیصد ہر سال دیا کریں۔یہ ایک مہینہ کی آمد کے لحاظ سے سوا تین فیصد بنتی ہے۔اور پہلے جماعتیں سوا چھ فیصد چندہ دیتی ہیں۔یعنی ایک آنہ فی روپیہ ماہوار۔اس میں اگر ایک ماہ کی آمدنی کے چندہ کی اوسط جمع کر دی جائے۔تو یہ ساڑھے نو فیصد بنتا ہے۔اور یہ وصیت کے ادنی معیار تک بھی نہیں پہنچتا۔کیونکہ وصیت کا ادنی درجہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دس فیصد رکھا ہے۔تو اس چندہ خاص سے بھی جماعت قربانی کے ادنی درجہ تک نہیں پہنچ سکتی۔اور حضرت مسیح موعود نے فرمایا ہے جو وصیت نہیں کرتا وہ نفاق سے پاک نہیں۔پس یہ جسے چندہ خاص کہا جاتا ہے۔دراصل اسے چندہ خاص نہیں کہنا چاہئے۔کیونکہ یہ وصیت کے ادنیٰ معیار تک پہنچاتا ہے۔اور جو وصیت کر چکے ہیں۔انہیں اس معیار سے اوپر لے جاتا ہے۔اور ان کا حق بھی ہے کہ اوپر جائیں۔اب میں اعلان کرتا ہوں یہاں کی جماعت کے لئے اور پھر اخباروں کے ذریعہ باہر کی جماعتوں کو بھی اطلاع ہو جائے گی کہ ہماری جماعت کے لوگ تین ماہ کے اندر اندر اپنی ایک ایک ماہ کی آمدنی کا ۴۰ فیصد چندہ ادا کریں۔چونکہ بعض لوگ زیادہ قرضہ میں دبے ہوتے ہیں۔اور انہیں زیادہ مالی مشکلات ہوتی ہیں۔اس لئے میں نے اب کے یہ تجویز کی ہے کہ بعض سے ۲۳ فی صد چندہ لیا۔جائے۔بعض سے چالیس اور بعض سے پچاس فیصد۔جو لوگ قرضوں میں دبے ہوئے ہوں۔وہ ۳۳ فی صد چندہ دیں۔جنہیں کچھ سہولت حاصل ہو وہ درمیانی درجه یعنی ۴۰ فی صد اختیار کریں۔اور جنہیں مال میں اور اخلاص میں خدا تعالیٰ نے زیادتی دی ہے وہ پچاس فیصد دیں