خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 108 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 108

108 شخص کے اعمال میں کمی اور سستی واقع ہو جائے اسے سمجھ لینا چاہئے۔وہ اطاعت اللہ و اطاعت رسول میں کامل نہیں اور وہ مومن کہلانے کا مستحق نہیں۔میں ان دوستوں کو جو سینکڑوں کی تعداد میں ہیں اور جو اپنی سستی اور کوتاہی کی وجہ سے دوسروں پر بھی برا اثر ڈالتے ہیں۔اس آیت کی طرف متوجہ کرتا ہوں یہ آیت بتاتی ہے کہ ایسے لوگ جو اعمال میں سست ہو جائیں ان کے قلوب میں ایمان داخل نہیں ہوتا۔اور وہ مومن کہلانے کے مستحق نہیں ہیں۔چنانچہ فرماتا ہے۔انما المومنون الذين امنوا بالله و رسوله ثم لم يرتابوا و جاهدوا باموالهم و انفسهم في سبيل الله اولئک هم الصادقون یہ مومن کی تعریف خدا تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے کہ مومن صرف وہی لوگ ہیں۔جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائیں۔پھر کبھی شبہ پیدا نہ ہو اور ان کے اعمال میں وقفہ نہیں ہوتا۔انہوں نے کبھی ریب نہیں کیا اور وہ کبھی اس شک میں نہیں پڑے کہ دین کی خدمت میں کتنا حصہ لیں۔اور کتنانہ لیں۔وہ ہمیشہ خدا کے راستہ میں اپنا مال اور جان اور ہر چیز خرچ کرنے لگ گئے۔ریب کے معنی کاٹنے کے ہیں۔ارتیاب کٹنے کو کہتے ہیں۔اس لئے شبہ کے معنی یہ ہوئے کہ وقفہ پڑ گیا۔سلسلہ کٹ گیا۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے مومن کے اعمال میں ایسا نہیں ہوتا۔ان کے اعمال میں کبھی وقفہ نہیں پڑتا۔انہیں کبھی یہ شبہ نہیں پڑتا کہ خدمت دین کریں یا نہ کریں۔خدمات دین کا بالکل چھوڑ دینا تو الگ بات ہے۔مومن کی یہ شان ہے کہ اسے کبھی شبہ اور شک بھی نہیں پڑتا کہ خدمت دین کے لئے اسے کیا کرنا چاہئے اور کیا نہیں کرنا چاہئے۔مومن کا یہ درجہ اللہ تعالی بیان فرماتا ہے ہماری جماعت پر خدا تعالیٰ کا یہ بہت ہی فضل ہے کہ اس کو خدا نے ایک ایسا عظیم الشان نبی دیا ہے۔جس کے متعلق سارے انبیاء پیشگوئیاں کرتے رہے ہیں اور اس سے بڑھ کر اس کی کیا تعریف ہو سکتی ہے کہ وہ آنحضرت اے کا بروز ہے۔بڑے سے بڑا مظہر خدا تعالیٰ کا رسول کریم ﷺ تھے۔آپ سے بڑھ کر تو اب کوئی آنا نہیں۔اور اب بڑے سے بڑا مقام جو کسی کو حاصل ہونا ممکن ہے۔وہ یہی ہے کہ آپ کا بروز اور مثیل بنایا جائے۔یہ انتہائی کمال ہے۔جواب کسی کو حاصل ہو سکتا ہے اور وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو حاصل ہوا ہے اور ہم آپ کی جماعت ہیں۔اس سے بڑھ کر ہمارے لئے خدا کا فضل اور کیا ہے۔اب غور کرو اگر کوئی شخص بڑے سے بڑے ڈاکٹر کے زیر علاج رہ کر شفایاب نہ ہو تو معلوم ہوا کہ وہ لا علاج ہے وہ ہلاک ہو گیا۔اسی طرح اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ہو سکتا۔