خطبات محمود (جلد 10) — Page 103
103 بھی اس کے لینے کے لئے تیار ہو جاتے۔کیونکہ بھوکا پیاسا مرجانا کوئی مشکل بات نہیں۔در حقیقت مشکل بات اخلاقی اور روحانی تبدیلی ہے۔لوگ بھوکے تو معمولی معمولی باتوں پر رہنے لگ جاتے ہیں۔قید خانوں میں جاتے ہیں۔تو بھوک سٹرائک شروع کر دیتے ہیں۔اور برہمنوں کا تو یہ مشہور حیلہ چلا آتا ہے کہ جب لوگ ان کی کوئی بات نہ مانیں تو کھانا چھوڑ دیتے ہیں۔پس بھوکا رہنا تو کوئی بڑی بات نہیں۔اور نہ یہ رمضان کی غرض ہے۔رمضان کی اصل غرض یہ ہے کہ اس ماہ میں انسان خدا تعالیٰ کے لئے ہر ایک چیز چھوڑنے کے لئے تیار ہو جائے۔اس کا بھوکا رہنا علامت اور نشان ہوتا ہے اس بات کا کہ وہ ہر ایک حق کو خدا کے لئے چھوڑنے کے لئے تیار ہے۔کھانا پینا انسان کا حق ہے۔میاں بیوی کے تعلقات اس کا حق ہے۔اس لئے جو شخص ان باتوں کو چھوڑتا ہے۔وہ یہ بتاتا ہے کہ میں خدا تعالیٰ کے لئے اپنا حق چھوڑنے کے لئے تیار ہوں۔ناحق کا چھوڑنا تو بہت ادنی بات ہے۔اور کسی مومن سے یہ امید نہیں کی جاسکتی کہ وہ کسی کا حق مارے۔مومن سے جس بات کی امید کی جا سکتی ہے۔وہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے اپنا حق بھی چھوڑ دے۔لیکن اگر رمضان آئے اور یونہی گذر جائے اور ہم یہی کہتے رہیں کہ ہم اپنا حق کس طرح چھوڑ دیں۔تو اس کا یہ مطلب ہو گا کہ ہم نے رمضان سے کچھ حاصل نہ کیا۔کیونکہ رمضان یہی بتانے کے لئے آیا تھا کہ خدا کی رضا کے لئے اپنے حقوق بھی چھوڑ دینے چاہئیں جب تک یہ بات پیدا نہ ہو کوئی یہ دعوی کرنے کا مستحق نہیں ہے کہ وہ ایمان لایا اور اس نے رمضان سے کچھ فائدہ اٹھایا۔زبانی دعوی کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہوتی۔بہت لوگ ہوتے ہیں جو بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔لیکن جب عمل کا وقت آتا ہے تو رہ جاتے ہیں۔اس قسم کا دعوئی کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔وہی دعوی حقیقت میں دعویٰ کہلانے کا مستحق ہوتا ہے۔جس کے ساتھ عمل بھی ہو۔اور ایسا ایک دعویٰ جس کے ساتھ عمل ہو، قربانی ہو اخلاص ہو، ایسے ہزار دعووں سے بڑھ کر ہوتا ہے جن کے ساتھ عمل نہ ہو۔بھلا بتاؤ تو سہی دنیا میں کس کی قدر و قیمت ہوتی ہے۔اس شخص کی جو تھیٹر کے تماشا میں بادشاہ بنتا ہے۔یا اس کی جو تیس چالیس روپیہ کا کہیں ملازم ہوتا ہے۔صاف بات ہے کہ ایسے بادشاہ کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہوتی۔وہ بڑے بڑے دعوے کرتا ہے۔مگر اس کے مقابلہ میں ایک معمولی کلرک کی زیادہ عزت ہوتی ہے وجہ یہ کہ وہ دعویٰ تو کرتا ہے کہ میں بادشاہ ہوں مگر بادشاہ چھوڑ معمولی افسر بھی نہیں ہوتا۔اس کے مقابلہ میں دوسرا گورنر ہونے کا بھی دعوی نہیں کرتا۔کلرک یا ہیڈ کلرک سو ڈیڑھ سو روپیہ تنخواہ کا ہوتا ہے۔مگر اس کا دعویٰ زیادہ احترام کے قابل ہوتا ہے۔کیونکہ اس میں حقیقت ہوتی ہے۔