خطبات محمود (جلد 10) — Page 87
87 آفات سے جو ایمان کے ساتھ لگی ہوتی ہیں محفوظ ہو جاتے ہیں مگر محبت کے جذبات دلائل سے یا عقل سے پیدا نہیں کئے جا سکتے۔بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتے ہیں۔اس میں ذہن اور عقل اور اعمال کا بھی دخل ہوتا ہے۔مگر اصل چیز خدا تعالیٰ کی مدد اور نصرت ہی ہے۔کیونکہ وہی ان چیزوں کی وہ مقدار جانتا ہے جس کے بعد محبت کا درجہ دیتا ہے۔اس لئے خدا تعالیٰ سے ہی کہنا چاہئے کہ ہمیں اس مقام پر لے جا کہ ہماری اطاعت محبت کی اطاعت ہو۔اور ہمیں وہ مقام عطا کر کہ جب انسان اس پر پہنچ جاتا ہے تو پیچھے ہٹ ہی نہیں سکتاک یہ ہے وہ فدائیت کا مقام جسے صوفیا فنا کہتے ہیں۔اس وقت انسان اپنے وجود کو فنا کر دیتا ہے۔اس وقت وہ عقل سے کام نہیں کرتا۔کیونکہ عقل اس مقام سے پیچھے رہ جاتی ہے۔وہ عقل سے سچائی اور راستی کا پتہ لگا لیتا ہے۔اور جب اسے اس کا پتہ لگ جاتا ہے تو پھر وہ اس مقام پر پہنچ جاتا ہے جہاں جذبات کا کام ہوتا ہے۔اس جگہ پہنچ کر انسان ٹھوکر سے بچ جاتا ہے۔کیونکہ جذبات دوسری طرف بھی اپنا کام کر رہے ہوتے ہیں۔ایک دفعہ میں نے رویا میں دیکھا کہ ایک چبوترہ پر حضرت مسیح کھڑے آسمان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔اوپر سے حضرت مریم اتریں۔اور ان سے آکر گلے مل گئیں۔اس وقت میری زبان سے یہ فقرہ نکلا Love Creats Love محبت محبت سے پیدا ہوتی ہے۔پس جب انسان کے دل میں محبت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں تو خدا تعالیٰ کی طرف سے بھی اس کی محبت کے سامان پیدا ہو جاتے ہیں۔اور پھر ان ارواح میں بھی محبت پیدا ہو جاتی ہے جن سے وہ شخص محبت کرتا ہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ انہیں ان محبت کرنے کی تحریک کرتا ہے عقلی اور ذہنی سلوک تو انسان زندوں سے کر سکتا ہے مردوں سے نہیں کر سکتا۔مگر محبت کا سلوک مردوں سے بھی کر سکتا ہے۔بلکہ زندوں کی نسبت زیادہ کر سکتا ہے اور وہ بھی اس سے محبت کا سلوک کرتے ہیں۔اس وقت انسان ایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ اس کے لئے زندہ تو زندہ ہوتے ہی ہیں مردہ بھی زندہ ہو جاتے ہیں اور وہ ایسے مقام پر ہوتا ہے کہ گو اس کا جسم مردوں سے دور ہوتا ہے مگر ان کی روحیں اکٹھی ملی ہوتی ہیں۔پس ہماری جماعت کے لوگوں کو چاہئے کہ وہ اپنی عقلی ، فکری اور عملی اصلاح کے بعد خداتعالی سے یہ دعائیں مانگیں کہ ایسا جذبہ عطا ہو کہ ان کا ہر کام خدا ہی کے لئے ہو۔اور خدا سے ان کا تعلق عقل کے ساتھ نہ ہو بلکہ عشق سے ہو۔یعنی ایسی آگ لگی ہوئی ہو کہ ایک دم کی دوری بھی جلا دے۔اس کے بعد انہیں وہ صراط مل جائے گی جس سے پیچھے نہیں لوٹیں گے۔پس میں دوستوں کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے ظاہری اعمال پر نہ رہیں۔اور نہ عقل