خطبات محمود (جلد 10) — Page 5
5 سمجھیں بقیہ ۲۰ ہزار اس طرح پورا ہو سکتا ہے۔اور اگلے سال چندہ خاص کی ضرورت نہیں پیش آئے گی پھر اس سے ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ وصیت کرنے والے چندہ وصیت ادا کرنے کو بوجھ نہیں گے۔وہ وصیت کر کے خدا کے انعام کے مستحق بنتے ہیں۔اس لئے وہ شکایت نہیں کریں گے۔پس اگر وصایا پر زور دیا جائے تو یہ احساس اور بلاوجہ احساس جو کچھ لوگوں میں پایا جاتا ہے کہ ہم پر بہت بوجھ پڑ گیا ہے۔دور ہو سکتا ہے۔اس وقت قلیل حصہ جماعت کا ایسا ہے جو وصیت کے معیار کے مطابق ماہوار چندہ دیتے ہیں اور کثیر نہیں دیتے۔حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس معیار کو اونی معیار قرار دیتے اور فرماتے ہیں۔جو وصیت نہیں کرتا اس میں ڈر ہے کہ نفاق کی رگ ہو۔اب اگر جماعت کا وہ حصہ جو وصیت کے مقرر کردہ اونی معیار یعنی آمدنی کے دسویں حصہ سے بھی کم چندہ دیتا اور پھر شور مچاتا ہے کہ بڑا بوجھ پڑ گیا اسے غور کرنا چاہئے کہ وہ نفاق کی رگ کو دور کرنے میں کس طرح کامیاب ہو سکے گا۔اگر وصیت پر زور دیا جائے تو وہ لوگ جو اب سمجھتے ہیں کہ ان سے زور کے ساتھ چندہ لیا جاتا ہے موجودہ شرح سے زیادہ چندہ دیں گے اور اپنی خوشی سے دیں گے کیونکہ وہ سمجھیں گے کہ ہم وصیت میں دیتے ہیں۔اس طرح ان کے نقطہ نگاہ میں تبدیلی ہو جائے گی اور نقطہ نگاہ کی تبدیلی سے بہت بڑا تغیر ہو جایا کرتا ہے۔اس طرح کم از کم ایک لاکھ آمدنی زیادہ ہو سکتی ہے پھر میں نے بتایا ہے کہ مالی بوجھ جماعت کی زیادتی سے بھی دور ہو گا۔اس لئے تبلیغ میں خاص کوشش کرنی چاہئے۔چوتھی بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود کی کتابوں کی فروخت کے لئے خصوصیت سے کوشش کی جائے یا اس بات کو اور وسیع کر کے کہتا ہوں کہ سلسلہ کا لٹریچر فروخت کیا جائے۔دیکھو آریہ ہر سال ہزارہا کی تعداد میں ستیارتھ پرکاش اور دوسری کتابیں فروخت کرتے اور عیسائی لاکھوں کی تعداد میں انجیل وغیرہ بیچتے ہیں۔ہم نے اس بارے میں گذشتہ سال کے آخری مہینہ میں تجربہ کیا ہے جو خوش کن ثابت ہوا ہے۔ہم نے لاہور ایک آدمی مقرر کیا جس نے بڑے بڑے بارسوخ لوگوں ججوں ، بیرسٹروں، وکیلوں، رئیسوں میں کئی سو کی کتابیں فروخت کی ہیں اسے ہم کتب کی فروخت نہیں کہتے بلکہ یہ خالص تبلیغ ہے اور یہ طریق تبلیغ بہت زیادہ مفید ہے کیونکہ جو لوگ کتابیں مول لیتے ہیں وہ پڑھتے بھی ہیں۔پس دوست ہر جگہ بک ڈپو قائم کر کے کتابیں فروخت کرنے کی کوشش کریں تو ہر سال ہزاروں روپیہ کی کتابیں فروخت ہو سکتی ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تبلیغ میں بھی بہت کامیابی ہوگی۔ایک تو آمدنی بڑھے گی اور دوسرے تبلیغ مفت میں ہو جائے گی۔اور لوگوں کو