خطبات محمود (جلد 10) — Page 74
74 کیونکہ ایک مومن کی شان یہی ہے کہ وہ ساری قوم کو بھی آگے بڑھائے۔اور خود بھی آگے بڑھے۔ہماری جماعت کے افراد کو بھی چاہئے کہ اس قسم کا سباق کریں۔کیونکہ اگر کسی جماعت کے بعض افراد خود سباق تو کریں۔مگر دوسروں کو گرا کر تو وہ در حقیقت سباق نہیں کرتے بلکہ قوم کو تباہ کرتے ہیں۔کیونکہ اس میں ان کو اپنا ذاتی فائدہ متصور ہوتا ہے جو قومی فوائد کے منافی ہوتا ہے۔پھر اگر کوئی امر کسی قوم کے فوائد کے منافی ہوتا ہے تو اس سے نہ صرف وہ قوم ہی متاثر ہوتی ہے۔بلکہ خود وہ شخص بھی اس سے متاثر ہوتا ہے۔جس نے ناواجب سباق کے ذریعے ایک ایسا امر کیا ہو جو جماعتی اور قومی فوائد کے مختلف ہو کیونکہ قوم افراد کا ہی مجموعہ ہوتی ہے۔اور وہ شخص بھی قوم کا ایک فرد ہوتا ہے۔ایک دفعہ بعض وہ صحابی جو غریب تھے اور صدقہ و خیرات کی مقدرت نہ رکھتے تھے۔آنحضرت ا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی یا رسول اللہ ہمارے بھائی جو امیر ہیں اور دولت رکھتے ہیں۔صدقہ خیرات کرتے ہیں۔اور اس طرح ہم سے نیکی میں بڑھ جاتے ہیں۔اس لئے ہمیں کوئی ایسا طریقہ بتایا جائے کہ نیکی کرنے اور ثواب پانے میں ہم ان سے بڑھ جائیں۔آنحضرت الیتا ہے فرمایا کہ تم نماز کے بعد تینتیس تینتیس بار تسبیح و تحمید اور چونتیس بار تکبیر پڑھ لیا کرو۔انہوں نے ایسا کرنا شروع کر دیا۔لیکن جب امراء کو اس کا پتہ لگا کہ آنحضرت ﷺ نے ان کو یہ بات بتائی ہے تو انہوں نے بھی یہی تسبیحیں اور تکبیر پڑھنی شروع کر دی۔اس پر غریب صحابہ نے پھر آنحضرت کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ حضور ! امراء بھی یہ تسبیجیں پڑھنے لگ گئے ہیں۔اور نے اس طرح وہ پھر ہم سے بڑھ گئے ہیں۔یہ سن کر آپ نے فرمایا۔جسے خدا ئیکی دے میں اسے کیسے روکوں ا۔اس میں سباق بالخیر کا ایک عمدہ سبق ہے۔غریب صحابہ نے یہ نہیں چاہا کہ ان کا مال و دولت جس کی وجہ سے یہ ہم سے نیکی میں بڑھ جاتے ہیں جاتا رہے بلکہ یہ چاہا کہ ان کا مال و دولت بھی رہے اور ہمیں بھی کوئی ایسا طریق معلوم ہو جائے کہ ہم ان سے بڑھ سکیں۔اسی طرح امراء صحابہ نے بھی یہ نہیں کیا کہ ان غرباء کو اس طریق سے محروم کر دینے کا خیال کیا ہو۔بلکہ یہ کیا کہ سباق بالخیر کے ماتحت اس کام کو اختیار کر کے اور بھی ان سے آگے بڑھ گئے۔تو یہ جو انانیت ہے۔یہ شرطی طور پر اعلیٰ چیز ہے۔یہ نہ ہو تو افراد قائم نہیں رہ سکتے اور اگر افراد قائم اور مضبوط نہ ہوں تو قوم قائم اور مضبوط نہ ہوگی۔پس صحیح انانیت یہ ہے کہ دوسروں کو انسان دبائے بھی نہیں۔ان کے حقوق بھی ضائع نہ کرے اور آگے بھی بڑھے اور آگے بڑھنے میں یہ بات مد نظر ہو کہ دوسرے بھی ساتھ ساتھ بڑھیں۔لیکن اگر یہ نہ کہا جائے یعنی دوسروں کے حقوق کا