خطبات محمود (جلد 10) — Page 66
66 گھوڑے رکتے ہیں تو ان کی گردن کاٹ کر رکھ دیتے ہیں۔اگر اونٹ چلنے سے رکتے ہیں تو ان کے پاؤں کاٹ دیتے ہیں۔اور پیادہ لبیک یا رسول اللہ لبیک کہتے ہوئے اس طرح واپس لوٹتے ہیں کہ تھوڑی دیر میں رسول کریم ﷺ کے ارد گرد بہت بڑا جتھا اکٹھا ہو جاتا ہے۔۴۔پھر ان کے نوجوانوں اور بچوں کا یہ حال تھا کہ بدر کے موقعہ پر حضرت عبدالرحمن بن عوف کہتے ہیں میرے دل میں کفار کے مظالم کی وجہ سے لڑنے کے لئے بڑا جوش تھا۔لیکن جب میں نے اپنے دائیں بائیں دیکھا۔تو دو چھوٹے بچے تھے۔اور ایسے موقعہ پر بہترین جنگی خدمت وہی کر سکتا ہے۔جس کے دائیں بائیں تجربہ کار بہادر سپاہی ہوں۔میں نے سمجھا۔میں آج کیا لڑوں گا۔میں یہ خیال ہی کر رہا تھا کہ دائیں طرف سے ایک لڑکے نے مجھے کہنی مار کر اپنی طرف متوجہ کیا اور میرے کان میں کہا تا دوسرا لڑکا نہ سن لے کہ چا وہ جو ابو جہل رسول اللہ کا بڑا دشمن ہے وہ کہاں ہے۔میں نے اسے جواب نہیں دیا تھا۔اور میں خیال کر رہا تھا کہ باوجود میرے بہادر اور تجربہ کار سپاہی ہونے کے میرے دل میں بھی یہ خیال نہیں آیا کہ ابو جہل پر حملہ کروں۔اسی خیال میں تھا کہ دوسرے لڑکے نے میرے کان میں کہا۔چچا ابو جہل کہاں ہے۔میں نے انہیں اشارہ سے بتایا کہ جس کے ارد گرد بڑے بڑے سردار ہیں وہ ہے۔حضرت عبدالرحمن بن عوف کہتے ہیں۔میری انگلی کا اٹھنا ہی تھا کہ چیل کی طرح جھپٹ کر وہ دونوں صفوں کو چیرتے ہوئے ابو جہل پر جا حملہ آور ہوئے اور اسے اتنا زخمی کر دیا کہ ان زخموں سے وہ مر گیا۔اس سے ان لوگوں کی قربانی کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ال لیکن خدا کی حکمت ہوتی ہے کہ جنگ حنین کے بعد رسول کریم نے ایک موقعہ پر مال غنیمت تقسیم کیا۔اور تقسیم کرتے وقت مکہ کے نو مسلموں کو بھی مال دیا۔اس پر ایک سترہ سالہ انصاری لڑکے کے منہ سے یہ فقرہ نکل گیا کہ خون تو ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے اور مال رسول اللہ ﷺ نے اہل مکہ کو جو آپ کے رشتہ دار ہیں دے دیا ہے۔رسول اللہ کو یہ بات پہنچی تو آپ نے انصار کو بلایا۔انصار بھی اس غلطی کو سمجھ گئے۔انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ یہ بات ہماری طرف سے نہ سمجھیں۔ہم میں سے ایک بیوقوف نے ایسا کہا ہے۔آپ نے فرمایا اے انصار تم کہہ سکتے ہو کہ ہم نے اس وقت تمھاری مدد کی اور اپنے گھروں میں جگہ دی جب تمہیں قوم دھتکار رہی تھی اور تمھارے لئے اس وقت اپنی جانوں کو خطرہ میں ڈالا۔جب تمھیں قوم دھتکار رہی تھی اور آپ کے لئے اس وقت اپنی جانوں کو خطرہ میں ڈالا جبکہ