خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 51 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 51

51 رہی ہے۔ وہ ہندو جو صدیوں سے مفتوح چلے آ رہے ہیں۔ اور جو کسی کو اپنے مذہب میں داخل ہی نہ کرتے تھے وہ بھی کہتے ہیں کہ دنیا میں غلبہ حاصل کرنے کے لئے دوسروں کو اپنے اندر داخل کرنا چاہئے اور وہ کر رہے ہیں۔ اسی طرح یہودی بھی جو کسی کو اپنے اندر داخل نہ کرتے تھے وہ بھی غلبہ کے لئے اپنی تعداد بڑھانے کی کوشش کر رہے رہے ہیں۔ ان سب قوموں کی مثال ایسی ہے حاصل کرنے کے۔ وہ کہ جب بارش ہوتی ہے تو جہاں تمہیں نکلتی ہیں وہاں بدبودار بوٹیاں بھی نکل آتی ہیں۔ چونکہ و امید کا پانی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ آسمان سے برساوہ دوسروں پر بھی پڑا اس لئے انہوں نے بھی امید اپنے دل میں پیدا کر لی۔ مگر یہ ہماری جماعت کے لئے افسوس اور رنج کی بات ہوگی کہ وہ قوم جس کے لئے امید اتاری گئی اگر وہ اس سے محروم رہے اور دوسرے فائدہ اٹھا لیں۔ اگر بارش سے زہریلی ہوئی اگ سکتی ہے اور اگتی ہے تو کیا شیریں پھل کا فرض نہیں ہے کہ وہ بھی اس بارش سے فائدہ اٹھائے اور ترقی کرے۔ پس میں اپنی تمام جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے دل میں امید پیدا کرو اور مایوسی کو چھوڑ دو کیونکہ جو شخص مایوسی کا ساتھ دیتا ہے وہ حضرت مسیح موعود عليه الصلوة والسلام کے ساتھ نہیں رہ سکتا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ وہی رہ سکتا ہے جس کے قلب میں فوارہ کی طرح امید پھوٹتی ہے۔ اور جسے کوئی بند نہ کر سکتا ہو۔ میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالی ہماری جماعت کے لوگوں میں بچی امید پیدا کرے اور ناامیدی جو تمام ہلاکتوں اور تباہیوں کی جڑ ہے اسے نکال دے۔ آمین الفضل ۵ فروری ۱۹۲۶ء)