خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 46 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 46

46 نے بھی اپنے زمانہ میں ان بدیوں کو چھوڑنے اور نیکیوں کے کرنے پر زور دیا ہے۔ مثلا " عقائد میں توحید الہی ہے۔ ہر نبی نے اس پر زور دیا ہے۔ لیکن انسان کی دماغی ترقی کے ساتھ ساتھ توحید کا بیان بھی زیادہ واضح اور زیادہ بین ہوتا گیا ہے۔ جیسا کہ پہلے نبیوں نے اسے بیان کیا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی بیان کیا ہے۔ مگر آپ نے ایسے رنگ میں اور اس وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے کہ دوسری امتوں کے انبیاء نے اس طرح بیان نہیں کیا۔ چنانچہ پچھلے دنوں میں نے اس کے متعلق اپنے بعض خطبات میں کچھ روشنی ڈالی تھی۔ اسی طرح نیکیوں میں سے خدا تعالیٰ کی محبت ایسی نیکی ہے کہ سب انبیاء اس پر زور دیتے آئے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اس پر زور دیا ہے۔ اور اس زمانہ کی خاص بدیوں میں سے ایک بدی دنیا کو دین پر مقدم کرنا ہے۔ اس کے خلاف حضرت مسیح موعود نے بہت زور لگایا ہے۔ میری مراد اس قسم کے عقائد یا اعمال کے متعلق آپ کی کوششوں کا ذکر کرتا نہیں۔ بلکہ میری مراد دماغی تغیر یعنی دماغ میں ایسا خیال پیدا کرنا ہے۔ جس کے ماتحت دنیا کے سارے اعمال آجاتے ہیں۔ پس اس وقت میری مراد خاص اعمال سے نہیں۔ خاص اعتقادات سے نہیں بلکہ روح عمل اور عقائد کی روح سے ہے۔ اس بات کے لئے جب ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیمات کو دیکھتے ہیں۔ تو ہمیں دو باتیں نظر آتی ہیں۔ جن پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خاص طور پر زور دیا ہے۔ اور جن پر اس رنگ میں روشنی ڈالی ہے۔ جس رنگ میں آپ سے پہلے نہیں ڈالی گئی۔ ان میں سے ایک تو امید کا پیغام ہے۔ مختلف زمانوں میں مختلف حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے انبیاء نے خیالات کی رو پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ مگر یہ بات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے ہی مقدر تھی کہ آپ نے دنیا میں امید کی رو پیدا کرنی چاہی۔ امید سے میری مراد وہ طرب اور خوشی نہیں کہ انسان اس حالت کے ماتحت ہر قسم کے افکار سے بچ جاتا ہے۔ پھر امید سے میری مراد آرزو بھی نہیں۔ انسان اس کے اثر کے نیچے اعمال میں کمزور ہو جاتا ہے۔ پھر امید سے میری مراد محض التجا اور دعا بھی نہیں کہ التجا اور دعا محض بے کسی اور بے بسی پر دلالت کرتی ہے۔ بلکہ امید سے مراد ان باریک در باریک قوتوں ان نہاں در نہاں طاقتوں اور ان مخفی در مخفی مقدرتوں پر اطلاع پانا ہے۔ جو انسان کے اندر اس لئے پیدا کی گئی ہیں کہ وہ اس مقصد وحید کو پالے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو جائے۔ اور امید سے میری مراد یہ ہے کہ انسان نہایت ہی زبردست طاقتوں بہت وسیع قوتوں اور بے انتہا مقدرتوں کو لے کر پیدا ہوا ہے اور امید سے میری مراد یہ ہے کہ اس کے محدود جسم میں غیر