خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 40 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 40

40 سے پہلے لوگ قدم مارتے رہے تو اب رسول اللہ ﷺ بھی کہہ سکتے ہیں کہ پہلے انبیاء جس طرح ترقیات کرتے رہے تھے اسی طرح مجھے بھی ترقیات دے۔ جس طرح ابراہیم اپنے درجہ میں ترقی کر رہے تھے۔ جس طرح عیسی اپنے درجے میں ترقی کر رہے تھے۔ اسی طرح میں بھی اپنے درجے میں ترقی کروں۔ ان معنوں میں اگر آنحضرت ا بھی یہ دعا کریں تو کوئی حرج نہیں۔ پس صراط الذین انعمت علیھم کا یہی مفہوم ہے۔ اور در حقیقت کوئی شخص مومن نہیں کہلا سکتا۔ جب تک عرفان میں نہ بڑھے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر ایک شخص کے لئے ہر وقت رب زدنی علما " کہنا ضروری ہے۔ جس طرح آدم کہتے تھے۔ جس طرح موسی کہتے تھے۔ جس طرح عیسیٰ کہتے تھے۔ اور جس طرح تمام دوسرے نبی کہتے تھے۔ اسی طرح رسول کریم ﷺ بھی کہتے تھے۔ اور ہر شخص بھی یہ کہتا ہے ۔ ادنی یا اعلیٰ ہوں۔ تمام اس میں برابر ہیں۔ پس صراط الذین انعمت علیھم میں یہ سکھایا گیا ہے کہ ہمارے قدم میں رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ پس میں اپنی جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ ہر ایک ان میں سے ایمان اور عرفان اور علم میں ترقی کرتا اور آگے بڑھتا جائے۔ تمام تباہی آگے نہ بڑھنے سے آتی ہے اور ساری بربادی اسی سے پیدا ہوتی ہے کہ انسان ایک جگہ پر جم جائے اور ترقی کرنے سے رک جائے۔ شائد کسی کو خیال پیدا ہو کہ کون چاہتا ہے کہ آگے نہ بڑھے۔ لیکن محض خیال کچھ نہیں کر سکتا۔ جب تک اس کے ساتھ احساسات نہ ہوں۔ احساس کے بغیر کچھ نہیں ہوتا۔ اگر کوئی شخص یہ خیال کرے کہ میں علم پڑھ جاؤں تو وہ صرف خیال سے ہی نہیں پڑھ جائے گا۔ جب تک اس میں پڑھنے کا احساس پیدا نہ ہو گا۔ ایسا ہی اگر کوئی شخص یہ خیال کرے کہ میں نیک ہو جاؤں تو وہ نیک نہیں ہو جائے گا۔ البتہ جس میں احساس پیدا ہو جائے وہ نیک ہو سکتا ہے۔ غرض صرف خیال کوئی چیز نہیں۔ جو کچھ ہوتا ہے ۔ احساس سے ہوتا ہے۔ خیال تو محض علم کا نام ہے۔ ایسے علم کا جس میں اپنا کچھ نہیں ہوتا۔ اور احساس اس علم اور ارادے پر غالب آنے والی ذہنی کیفیت کا نام ہے۔ جو مجبور کر کے اپنا کام کرا لیتی ہے۔ اگر تم خیال کرو کہ محبت پیدا ہو تو محبت صرف خیال سے پیدا نہیں ہوتی بلکہ احساس اسے پیدا کرتا ہے۔ بے شک خیال پہلے پیدا ہوتا ہے اور احساس پیچھے پیدا ہوتا ہے۔ مگر جب تک یہ پیدا نہیں ہو تا خیال کچھ نہیں کر سکتا۔ ماں کے دل میں بچے کی محبت کا خیال نہیں ہوتا بلکہ احساس ہوتا ہے۔ پھر وہ اس احساس سے کیا کیا تکلیفیں برداشت کرتی ہے۔ لیکن جو صرف خیال کرتے ہیں کہ محبت ہے وہ کچھ نہیں کر سکتے۔