خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 38 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 38

38 مجھے بھی پہلے لوگوں کا راستہ دکھا جس پر چل کر منعم علیہ بن گئے۔ اس صورت میں آپ خود جو راستہ دنیا کے لئے لائے اس پر اعتراض ہوتا ہے کہ اس کے ذریعہ منعم علیہ میں انسان شامل نہیں ہو سکتا۔ اگر صرف الصراط المستقیم ہوتا تو ہم کہتے راستہ خدا کا وسیع ہے۔ اور جس طرح زید بکر کو اس کی ضرورت ہے اسی طرح آنحضرت کو بھی اس کی حاجت ہے لیکن قرآن شریف نے صراط المستقیم کی تشریح انعمت علیھم کی ہے۔ یعنی ان کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا۔ تو اس انعمت علیہم نے راستہ کو محدود کر دیا۔ اب زید اور بکر اور دوسرے لوگ تو اس دعا کو مانگ سکتے ہیں۔ لیکن نبی کریم ال اس دعا کو نہیں مانگ سکتے۔ کیونکہ ہم سب مانتے ہیں اور شروع سے ہی تمام مسلمان مانتے چلے آئے کہ آنحضرت ا نہ صرف رسول ہی تھے بلکہ سید ولد آدم بھی تھے حتی کہ آپ خاتم النبیین تھے اور سب سے زیادہ خدا تعالیٰ کے مقرب بھی تھے مگر جب ہم دوسری طرف یہ بھی مانتے ہیں کہ آپ یہ دعا بھی مانگا کرتے تھے اور کثرت سے مانگا کرتے تھے۔ نہ صرف پانچوں نمازوں میں بلکہ نوافل میں بھی بلکہ اور اور موقعوں پر بھی۔ تو اگر اس کے یہی معنے کئے جائیں کہ وہی مدارج ہمیں بھی دے جو پہلوں کو دیئے تو رسول اللہ اس کے لئے یہ دعا بے فائدہ ہو جاتی ہے۔ یا پھر یہ دعوئی بالکل غلط ہو جاتا ہے کہ آپ سب نبیوں سے افضل تھے۔ قرآن شریف سے بھی کوئی استثناء آپ کی نہیں معلوم ہوتی کہ آپ تو یہ دعا نہ مانگا کریں لیکن صحابہ اور دوسرے افراد امت مانگا کریں۔ اسیا ہی نہ آپ کے عمل سے کوئی اس قسم کی استثناء معلوم ہوتی ہے۔ پس اس صورت میں یہی کہنا پڑے گا کہ آپ کے لئے اس سے مراد وہ مدارج نہیں جو پہلوں کو دیئے گئے اور آپ کو نہیں دیئے گئے اور آپ ان کے حصول کے لئے دعا کرتے ہیں۔ مگر ابھی اس بات کا ایک اور پہلو بھی ہے۔ اور اس کو مد نظر رکھتے ہوئے دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا آنحضرت ا سے بڑھ کر بھی کوئی شخص ہے ؟ قرآن شریف کہتا ہے نہیں اور روز روشن کی طرح روشن کر کے کہتا ہے کہ آپ تمام انبیاء کے کمالات کے جامع تھے۔ اور جس جس طرح کے اور جتنے جتنے کمال کسی نبی میں پائے گئے۔ وہ سب آپ پر ختم ہو گئے اور نسل آدم کے تمام کے تمام کمال آپ میں جمع تھے۔ مطلب یہ کہ آپ سے بڑھ کر کوئی بھی نہیں ہوا اور کسی کو کوئی ایسا رتبہ یا درجہ یا مقام نہیں دیا گیا۔ جو آپ کو نہ دیا گیا ہو۔ اس صورت میں کہ جب یہ بھی نہیں کر سکتے کہ آپ سے پہلے کوئی اور آدمی بھی بڑا ہوا ہے تو ماننا پڑے گا کہ اھدنا الصراط المستقيم صراط الذين ا نعمت علیھم کے یہ معنے نہیں کہ آپ پہلوں