خطبات محمود (جلد 10) — Page 313
313 کیونکہ یہ بات مباہلہ کرنے کے ہی قابل نہیں۔اگر دینی امور کے متعلق ہو تو ہم یہ سمجھیں گے کہ مباہلہ صحیح طریق پر نہیں ہوا۔مثلاً دو شخص مباہلہ کریں اس بات پر کہ ایک شخص کہے کہ حضرت نبی کریم کے بعد نبی آسکتا ہے۔اور دوسرا یہ کہے کہ نبی نہیں آسکتا۔اب اگر دونوں پر عذاب آجائے۔اور مباہلہ کو صحیح مانا جائے۔تو پھر یہ ماننا پڑے گا کہ رسول اللہ ان کے بعد نبی آبھی سکتا اس ہے اور نہیں بھی آسکتا اور یہ دونوں باتیں متضاد ہیں یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ یہ دونوں باتیں صحیح ہوں۔بہرحال ایک بات ہی صحیح ہو گی۔پس ایسی صورتوں میں ماننا پڑے گا کہ مباہلہ غلط طریق پر ہوا ہے اور یہ عذاب اتفاقی ہے ورنہ صرف جھوٹے فریق پر آتا۔ایسا ہی اس موجودہ مباہلہ کے متعلق بھی ہم یہی کہیں گے کہ یہ مباہلہ ہی غلط طریق پر کیا گیا ہے۔اور اس سے یہ نتیجہ نہیں نکل سکتا کہ مرزا صاحب جھوٹے ہیں کیونکہ دوسرا نتیجہ بھی تو نکل سکتا ہے کہ فریق ثانی جھوٹا ہے۔میں دوستوں کو پھر توجہ دلاتا ہوں۔کہ اس قسم کے مباہلے لغو ہیں۔غلط مباہلہ کر کے صحیح نتیجہ کی امید رکھنا یہ دوسری ہے۔جب محمد رسول اللہ اللہ کی اجتہادی غلطی بغیر نتیجہ کے نہیں رہی تو تمہاری شرعی غلطی کیسے معاف ہو سکتی ہے۔دیکھو صحابہ سے جنگ احد میں اجتہادی غلطی ہوئی اس کا کیسا نتیجہ نکلا۔صحابہ کو میدان سے الگ بھاگنا پڑا۔اور رسول اللہ ال الليل الگ زخمی ہوئے۔حتی کہ آپ کی شہادت کی خبر اڑ گئی۔مباہلہ کرتے وقت ہمیشہ احتیاط رکھو۔اور ان شرائط کے ساتھ مباہلہ کرو جو میں نے بیان کی ہیں۔ایسے اہم معالمہ میں کہ جس میں عام قانون کو توڑا جاتا ہے۔بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے قانونوں کو سمجھنے اور ان پر چلنے کی توفیق عطا فرمادے۔آمین الفضل ۲۵ جنوری ۱۹۲۷ء)