خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 312 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 312

312 ایسے شخص ہیں کہ جن کا اثر دوسرے لوگوں پر کوئی نہیں پڑ سکتا۔ایک طرف ہمارا آدمی ہے۔اس کا بھی کوئی اثر جماعت پر نہیں ہو گا۔دوسری طرف ایک مولوی ہے۔جس کے متعلق لوگ کہہ دیں گے کہ ہمیں اس سے کیا ہم کوئی اس کے مرید ہیں۔آج سے پہلے جتنے مولوی تباہ ہوئے ہیں لوگ ان سب کے متعلق کہہ دیتے ہیں کہ کیا ہم مولوی کے مرید ہیں جو اس کی ہلاکت ہم پر حجت ہو۔پھر اتمام حجت کا بھی کوئی ثبوت نہیں۔اس مباہلہ میں یہ ذکر ہی نہیں کہ کوئی تقریر ہوئی ہے یا مباحثہ ہوا ہے۔بلکہ اس میں مولوی نے آتے ہی کہا ہے کہ ہم بحث نہیں کرتے کیونکہ نہ ہم نے مانا ہے نہ تم نے مانٹا ہے۔اب جو شخص یہ کہتا ہے اس کو اتمام حجت کا کیا پتہ۔پھر نتیجہ کے لحاظ سے بھی کوئی مساوات نہیں رکھی گئی۔کیونکہ اس میں غیر احمدی کی یہ دعا ہے کہ اے خدا اگر مسیح زندہ نہیں ہے اور مرزا صاحب اپنے الہامات میں بچے ہیں تو مجھے پر عذاب نازل کر۔اور پھر اقرار یہ ہے کہ اگر مجھ پر عذاب نازل ہو گیا تو مان لوں گا کہ مرزا صاحب اپنے دعوئی میں بچے تھے۔اس کے مقابل احمدی کی دعا یہ ہے کہ اے خدا اگر مسیح زندہ ہے اور نبوت کا دروازہ کھلا نہیں اور حضرت مرزا صاحب اپنے دعوئی میں بچے نہیں تو مجھے پر عذاب نازل کر۔اور پھر احمدی کا یہ اقرار ہے کہ اگر مجھ پر عذاب نازل ہو گیا تب بھی مرزا صاحب کو جھوٹے مان لوں گا۔اور اگر کسی پر بھی عذاب نازل نہ ہوا تب بھی مرزا صاحب کو کاذب تسلیم کرلوں گا۔اب قابل غور ہے کہ جب احمدی کے مرنے سے مرزا صاحب کا کذب لازم آتا ہے۔تو اس کے بچ رہنے کی صورت میں مرزا صاحب کا صدق کیوں ضروری نہیں پس چونکہ اس مباہلہ میں نتیجہ کے لحاظ سے مساوات نہیں۔اس لئے اس کا صحیح نتیجہ نہیں نکل سکتا۔اور اندریں صورت یہ مباہلہ فیصلہ کن نہیں بن سکتاک مباہلہ میں چار شقیں ہیں۔یا زید پر عذاب آئے گا۔یا بکر پر آئے گا۔یا دونوں پر آئے گا۔یا دونوں پر نہیں آئے گا۔ان میں سے پہلی شق صحیح ہے۔یعنی یہ کہ دونوں میں سے ایک پر آئے گا۔اگر زید پر آیا تو بکر سچا ہو گا۔اگر بکر پر عذاب آئے۔تو زید سچا ہو گا۔تیسری شق کی صورت میں اگر مباہلہ ہو اور عذاب بھی آگیا ہو۔تو پھر ہم یہ سمجھیں گے۔کہ یہ عذاب تو ہے۔لیکن یہ عذاب اتفاقی ہے۔مباہلہ کا نتیجہ نہیں۔یا اگر دونوں پر عذاب نہ آوے تو یا تو طریق مباہلہ کو غلط قرار دینا پڑے گا۔گویا مباہلہ ہی صحیح نہیں ہوا۔یا یہ نتیجہ نکلے گا۔کہ دونوں امور دین کے ساتھ تعلق نہیں رکھتے تھے اس لئے نتیجہ ظاہر نہیں ہوا۔مثلاً دو شخص مباہلہ کریں اور ہر ایک کے جس طریق پر میں گیہوں ہوتا ہوں وہ ٹھیک طریق ہے ورنہ مجھ پر عذاب نازل ہو دے۔اب دونوں پر عذاب نازل نہیں ہو گا۔