خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 290 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 290

290 ڈالتا۔پس جب خالی کسی کو کھانا کھلانا اتنا بڑا کام ہے کہ اس کے اجر میں انسان کو غیر متزلزل ایمان حاصل ہوتا ہے۔اس کے ایمان کو تزلزل میں ڈالنے والے واقعات نہیں پیش آتے۔تو ہ وہ کھانا کھلانا جو اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے اس کے دین کی اشاعت کے لئے ہو کتنے بڑے اجروں اور فضلوں کا موجب ہو سکتا ہے۔اس لئے ایسی خدمات کو معمولی خدمت مت سمجھو بلکہ اس کو دین کی خدمت سمجھو تاکہ تم عمدگی اور اخلاص کے ساتھ کام کر سکو۔مگر اس کے ساتھ کچھ ذمہ داریاں بھی ہوتی ہیں مثلاً صبر و تحمل ، محنت اور چستی ہو۔کیونکہ بعض وقت ذرہ کی بے پروائی کے نتیجہ میں دوسرے کے ایمان کو ٹھوکر لگ جاتی ہے۔تمہاری آنکھوں پر ، تمہاری زبان پر ، تمہاری تمام حرکات و سکنات پر قابو ہو اور چستی اور عقل کے ساتھ کام کرو۔جب تک اس رنگ میں خدمت کے لئے تیار نہ ہو گے۔تب تک خدمت مفید نہیں ہو سکتی۔کیونکہ ہو سکتا ہے کہ تم خدمت تو کرو لیکن زبان پر قابو نہ ہونے کی وجہ سے تمہارے منہ سے ایسا کلمہ نکل جائے جو دوسرے کی شان کے خلاف ہو۔اور گستاخی میں تمہارا ایمان ضائع ہو جائے یا تمہاری خدمت ہی ضائع چلی جائے۔یا ہو سکتا ہے کہ کوئی ایسی حرکت تم سے سرزد ہو جو دوسرے کے ایمان کے لئے ٹھوکر کی موجب ہو۔اس میں بھی تم اس کی ٹھوکر کا موجب بنے۔اس لئے محبت اور نرمی محنت اور چستی کے ساتھ کام کر کے اپنے عمل سے یہ ثابت کر دو کہ قادیان کی رہائش اپنے اندر کس قدر مفید سبق رکھتی ہے اور کیا تغیر پیدا کر دیتی ہے۔یہ کہنا بہت بڑی غلطی ہے کہ قادیان صرف ہسپتال ہے قادیان صرف ہسپتال ہی نہیں بلکہ وہ مدرسہ ہے معلمین کا۔بھلا یہ بھی کبھی ہو سکتا ہے کہ ہسپتال میں کبھی مریض اچھے ہی نہ ہوں۔کیا وہ ہسپتال بھی ہسپتال کہلانے کا مستحق ہو سکتا ہے۔جو ۳۳ سال سے چلا آتا ہو اور اس میں کبھی کوئی مریض تندرست نہ ہوا ہو۔اس میں ۳۳ سال سے مریض برابر چلے جاتے ہوں پھر اتنے لمبے عرصہ میں وہ تندرست نہ ہوئے ہوں۔یہ تعریف نہیں یہ مذمت ہے۔بلکہ گالی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ قادیان ہسپتال بھی ہے۔اور اس میں بعض نئے لوگ مریض کی طرح آتے ہیں وہ ایسی غلطیاں کر بیٹھتے ہیں جو دوسروں کی ٹھوکر کا موجب ہوں۔اور بعض ایسے مریض بھی آجاتے ہیں جو کبھی تندرست نہیں ہوتے۔لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ یہ صرف ہسپتال ہے اور ہسپتال بھی ایسا کہ جس میں ہمیش مریض ہی رہتے ہیں کبھی کوئی تندرست ہو کر نہیں نکلا۔بلکہ یہ تعلیم گاہ ہے مدرسہ ہے روحانیت کا۔کیا یہ تسلیم ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالٰی نے ایسی صورت میں بھی اب تک اس