خطبات محمود (جلد 10) — Page 291
291 ہسپتال کو قائم رکھا ہوا ہے۔ایسی بات یا تو بیوقوف کہہ سکتا ہے یا پھر منافق دشمن کہہ سکتا ہے جس کی غرض مخفی حملہ کرنا ہے۔قادیان روحانی معلمین کی تعلیم گاہ ہے۔بے شک یہ ہسپتال بھی ہے۔جس میں کئی لوگ مایوس ہو کر آتے ہیں اور یہاں آکر بھی فائدہ نہیں اٹھاتے۔مگر یہ خالی ہسپتال نہیں بلکہ یہ دینی مدرسہ بھی ہے جہاں سے بہت لوگ روحانی اور دینی تعلیم حاصل کر کے نکلتے ہیں۔اور دوسروں کے لئے وہ نمونہ ہوتے ہیں۔استاد اور رہنما ہوتے ہیں۔ہاں بشری غلطیاں بھی ان سے سرزد ہوتی ہیں۔اور ایسی غلطیوں سے تو خدا کے نبی بھی نہیں بچ سکتے۔سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی ہستی غلطی سے پاک نہیں۔ایسے لوگ ہمیشہ یہی کہتے ہیں کہ اگر ہم ہوتے تو یوں کرتے اور یہ لوگ تو یہاں تک بھی کہتے ہیں کہ اگر ہم محمد رسول اللہ اللہ کی جگہ فلاں مقام پر ہوتے تو ہم یوں کرتے۔دیکھو محمد رسول اللہ ا نے فلاں سیاسی غلطی کی اگر میں اس وقت ہوتا تو ایسا کرتا۔لیکن ہمارا سوال تو یہ ہے کہ تمہیں کس نے مجبور کیا تھا کہ تم اس وقت نہ ہوتے۔کس نے تمہارے پاس درخواست کی کہ تم اس وقت موجود نہ ہوتے ہمارا گلہ تو یہی ہے کہ تم ہوتے تو نہیں اور کہتے یہ ہو کہ اگر ہم اس وقت ہوتے تو یوں کرتے۔پس ہمارا شکوہ تو تمہارے اگر " پر ہے۔تم اگر ان سے بہتر نمونہ پیدا کر کے یا بہتر تربیت کر کے دکھاتے تو ہم تمہارے سامنے دو زانو ہو کر بیٹھ جاتے اور درخواست کرتے کہ ہمیں سکھاؤ اور ہماری تربیت کرو۔لیکن تم تو بد قسمتی سے ہمیشہ یہی کہتے ہو کہ اگر ہم ہوتے۔تو تم خود تو ہمیشہ اگر ہوتے میں ہی رہے اور جو کام کرنے والے ہیں ان پر یوں اعتراض کرتے رہے۔اس سے لازما " یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ تم صرف چڑانے کے لئے کہتے ہو۔حق یہی ہے کہ قادیان ہسپتال کی طرح روحانیت کی درسگاہ بھی ہے۔اور ایسا اعلیٰ درجہ کا روحانی اور اخلاقی مدرسہ ہے کہ جو اپنی نظیر نہیں رکھتا۔پس تمام دوست اپنے اخلاق اور عمدہ چال چلن اور اعلیٰ درجہ کے نیک نمونہ کے ساتھ اور اپنے عمل کے ساتھ ثابت کر دیں کہ واقعہ میں یہ جگہ ایسی تربیت گاہ ہے کہ اس کی نظیر دنیا میں کہیں نہیں پائی جاتی۔میں تو حیران ہوتا ہوں اس نا بینائی پر کہ کس طرح وہ یہ دیکھتے ہوئے اعتراض کرتے ہیں کہ وہ بچے جو نوکروں سے کام کرانے کے عادی ہوتے ہیں۔اور گھر میں کبھی کام کو ہاتھ تک نہیں لگاتے وہ دن رات جلسہ کے دنوں میں مہمانوں کی خدمت میں حاضر رہتے ہیں۔معمولی معمولی مہمانوں کے لئے کھانا لاتے اور ان کے سامنے رکھتے ہیں اور ان کے برتن صاف کرتے ہیں۔کیا اس قسم کی مثال دنیا کے کسی حصہ میں پائی جاتی ہے۔اگر پائی بھی جاتی ہو تو پھر وہاں یہ محبت اور یہ اخلاص نہیں ہو