خطبات محمود (جلد 10) — Page 274
274 اصلاح کے لئے دلیل محرک ہو سکتی ہے۔اور جو لوگ اپنے نفسوں پر قابو رکھتے ہیں ان کے مقابل میں بے شک یہ بڑا ہتھیار ہو سکتا ہے۔لیکن ایسے آدمی بہت کم ہوتے ہیں ایسا آدمی ہزار میں ایک ہوتا ہے، ورنہ کثیر طبقہ وہی ہوتا ہے جو اخلاق سے متاثر ہوتا ہے وہ ایمان لاتا ہے تو کسی کے سر پر چڑھ کر۔وہ مرتد ہوتے ہیں تو کسی کے سر پر چڑھ کر۔وہ صرف ایک ہی دلیل جانتے ہیں کہ کوئی ایسا شخص ہمارے سامنے لاؤ جس کی ہم اتباع کر سکیں۔کیونکہ یہ طریق ان کو آسان معلوم ہوتا ہے اور مشکل کام کے وہ عادی نہیں ہوتے اور اس طریق سے عیسائیوں نے کام لیا ہے اور اسی ذریعہ سے غلبہ حاصل کیا ہے۔باوجود اس کے کہ مسیحی حکومتیں کئی رنگ میں دنیا کو تباہ کر رہی ہیں لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ مسیحی پادری سیاسی خیالات کو چھپاتے ہوئے بھیڑ کی کھال میں اخلاق سے کام لیتے ہیں اور لوگوں کو گرویدہ بناتے ہیں۔وہ لوگ عیسائیت کو نہیں دیکھتے اور نہ انہوں نے مسیح کو دیکھا ہوتا ہے۔وہ صرف اس بات کو دیکھتے ہیں کہ پادری محبت اور ہمدردی کا اظہار کرتا ہے۔پس وہ اس بات کا خیال نہیں کرتے کہ اس کی تعلیم اس کے عمل کے خلاف ہے۔اور اس کی تہ میں سیاسی خیالات کام کر رہے ہیں۔اور حکومت کا یہ پیش خیمہ ہے یہ وجہ ہے کہ وہ عیسائیت جو یورپ کے سوا اور کہیں نہ پائی جاتی تھی اور وہ یورپ کہ جس کے کناروں پر اسلامی حکومتوں کا جھنڈا لہراتا تھا آج بحر ذخار کی طرح دنیا پر پھیل رہا ہے اور اس کی لہریں اس طرح اٹھ رہی ہیں کہ ہر مذہب کانپ رہا ہے کہ شائد میں لہر اس کا خاتمہ کر دے گی۔وہ لوگ کہ جن کا مطمح نظر گرد و پیش سے چند گز آگے بھی نہیں اٹھتا۔ان کے سوا ہر عقل مند جانتا ہے کہ عیسائی حکومت دنیا پر اب اس قدر مستحکم ہو چکی ہے کہ اب دنیا کی کوئی ظاہری طاقت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔اور اس کو اپنی جگہ سے ہلا نہیں سکتی۔اور یہ سب کچھ پادریوں کے چند یاد کئے ہوئے فقروں اور ان کے شیریں کلام اور بناوٹی اخلاق کا ہی نتیجہ ہے۔بہت سی جگہیں ہیں کہ جہاں پادریوں نے اس طریق سے کامیابی حاصل کی ہے۔چنانچہ پشاور ہی کا واقعہ ہے کہ وہاں مدت تک عیسائیت پھیلانے کے لئے کوششیں کی گئیں لیکن کامیابی نہ ہوئی۔آخر وہاں ایک پادری پہنچا۔جس نے بازاروں میں علی الاعلان وعظ کرنا شروع کیا۔دوسرے لوگ اسے گالیاں دیتے۔کوئی اس پر تھوکتا کوئی گالی دیتا اور کوئی اس پر راکھ وغیرہ پھینکتا۔وہ جواب دیتا کہ بھائی تم مجبور ہو کیونکہ تمھارا مذہب ایسے ہی اخلاق کی تعلیم دیتا ہے اور میں