خطبات محمود (جلد 10) — Page 270
270 29 دنیا میں ہی جنتی بن جائیں (فرموده ۵ نومبر ۱۹۲۶ء) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : آج بعض ضروری کاموں کی وجہ سے اس قدر دیر ہو گئی ہے کہ خطبہ کے لئے بہت اختصار کی ضرورت ہے۔اس لئے میں نہایت اختصار کے ساتھ آپ لوگوں کی توجہ اس امر کی طرف پھیرنا چاہتا ہوں کہ سورہ فاتحہ سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے اندرونی حالات و کیفیات کو مد نظر رکھتے ہوئے چار قسم کے انسان پائے جاتے ہیں۔ایک تو وہ لوگ ہیں جن کی حالت ایسے اطمینان کے مقام پر پہنچ گئی ہے کہ اس کے اندر کسی قسم کا تغیر اور کسی قسم کا بگاڑ نہیں پیدا ہو سکتک ان کے قلوب اس حد تک صاف ہو جاتے ہیں۔ان کی روحانیت کا آئینہ ایسا مصفی ہو جاتا ہے اور ان کے افکار اتنے پاکیزہ ہو جاتے ہیں کہ کسی قسم کی میل کا نشان ان میں باقی نہیں رہتا۔انہوں نے اسی دنیا میں ایسے مقام کو پا لیا ہوتا ہے کہ اس میں نہ ان پر بڑھاپا آتا ہے نہ ان پر موت وارد ہو سکتی ہے۔وہ اس دنیا میں ہی اس مقام کو حاصل کر لیتے ہیں جس میں انسان ننگا اور بھوکا اور پیاسا نہیں رہتا۔غرض مختصر الفاظ میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے جنت کا مقام حاصل کر لیا۔قرآن کریم ہمیں بتاتا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی خشیت رکھتے ہیں۔ان کے لئے دو جنتیں ہوتی ہیں۔ایک جنت تو اس دنیا میں پاتے ہیں اور ایک اگلے جہان میں۔اور جنت وہ مقام ہے۔جس میں نہ سردی ہے نہ گرمی۔جس میں انسان نہ نگا ہوتا ہے نہ بھوکا اور نہ پیاسا ہوتا ہے۔اب اگر کوئی اس دنیا میں ہی اس مقام کو پالیتا ہے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ جنت میں داخل ہو گیا ورنہ اگر ظاہری ترجمہ لیں تو دنیا میں کوئی انسان نہیں نظر آتا جو دنیا میں ان چیزوں سے متاثر نہ ہو۔یہاں