خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 267 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 267

267 دیکھ کر آپ نے ان سے کہا کہ نر اور مادہ کو کیا ملاتے ہو۔اس پر لوگوں نے سمجھا۔آپ کا شائد یہ منشاء ہے کہ یہ پیوند نہ لگایا جائے چنانچہ اس کے مطابق انہوں نے پیوند لگانا چھوڑ دیا نتیجہ یہ ہوا کہ دوسرے سال ان کھجوروں نے پھل نہ دیا ان لوگوں نے آنحضرت اللہ سے عرض کی۔آپ نے فرمایا یہ میں نے کب کہا تھا کہ پیوند نہ لگاؤ میں نے تو صرف دریافت کیا تھا۔اگر تم کو میرے دریافت کرنے سے یہ خیال گزرا تھا کہ میں ایسا کرنے سے منع کر رہا ہوں تو تم کو چاہئے تھا کہ مجھ سے کہہ دیتے کہ اس کے بغیر یہ پھل نہیں لائیں گی۔میں کوئی زمیندار ہوں کہ مجھے ان باتوں کا علم ہوتا یہ تو تمھارا کام تھا کہ مجھ سے کہہ دیتے تو دنیاوی معاملات کے سمجھنے میں ایک نبی بھی غلطی کر سکتا ہے۔پھر اور کون ہے جو نہ کرے۔ہم نبی سے بڑھ کر نہیں ہیں۔سو ہم سے غلطیاں ہوتی ہیں مگر غلطیوں کے موقعہ پر ہونا یہ چاہئے کہ ان سے آگاہ کیا جائے نہ کہ بدگمانی شروع کر دی جائے۔میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ خدا کے فضل سے ہمارے سلسلے کے کارکن مخلص نیک نیت ، دیانتدار اور محنتی ہیں۔وہ اپنی عقل سمجھ اور طاقت کے مطابق کوشش کرتے ہیں کہ غلطی نہ ہو لیکن پھر بھی اگر ہو جائے تو اس کے متعلق کسی قسم کی بدظنی کرنا درست نہیں۔غلطی کو غلطی کی نگاہ سے دیکھنا چاہئے۔دنیا میں کوئی انسان ایسا نہیں ملے گا جو غلطیوں سے پاک ہو۔مفسدوں نے تو یہ کوشش بھی کی تھی کہ مسجد لندن ہی نہ بنے۔لیکن خدا نے ان کا منہ کالا کرنے کے لئے نہ صرف یہ کیا کہ مسجد بنانے کی توفیق دی۔بلکہ ایسے سامان بھی پیدا کر دئیے کہ تکمیل کے بعد اس کا شاندار افتتاح بھی ہو گیا۔جو ایسا شاندار تھا کہ ہر ایک نے اس بات کو تسلیم کیا کہ اس کی مثال پہلے موجود نہیں تھی۔تقریباً دو سو سے زیادہ ولائتی اخبارات میں زبردست الفاظ کے ساتھ اس کا ذکر آیا۔یہ اخبار انگلستان کے ہیں۔ان کے علاوہ اور اخبارات ہیں جو دوسرے ملکوں سے نکلتے ہیں۔اور جن میں اس کا ذکر ہو رہا ہے اور جن کے کنکس (Cuttings) آ رہے ہیں۔اس طرح اس وقت تک قریبا بیس پچیس کروڑ انسان یہ بات سن چکے ہیں کہ لندن میں ایک مسجد بنی ہے۔جس کا افتتاح ہوا اور جسے اس احمدی جماعت نے بنایا۔جس کے امام مرزا غلام احمد صاحب ہیں۔جنہیں خدا نے مسیح موعود اور نبی بنا کے بھیجا۔اور جس کا کام اشاعت اسلام ہے۔دنیا کے ہر تین آدمیوں میں سے ایک آدمی کو یہ بات پہنچ چکی ہے اور خود انگلستان کے اخبار نویسوں اور دیگر سر بر آوردہ لوگوں کی یہ رائے ہے کہ اگر ہم دو کروڑ روپیہ بھی خرچ کرتے تو اتنی اشاعت نہ ہوتی جتنی اب ہو گئی ہے بلکہ بعض نے تو یہ بھی کہا کہ دو کروڑ روپیہ نہیں دو کروڑ پونڈ بھی یہ کام نہ کرتا جو اس روپیہ نے کر دیا جو مسجد پر خرچ ہوا۔پھر اس مسجد کے افتتاح میں بڑے بڑے لوگ شامل ہوئے۔تین لارڈ۔تیرہ ممبر پارلیمنٹ اور مختلف ممالک کے سفرا ، وزرا، نواب اور دیگر معزز اور سر بر آوردہ لوگوں نے ایک کافی