خطبات محمود (جلد 10) — Page 266
266 کتنا آتا ہے اور کیونکہ خرچ ہوتا ہے کیونکہ اس کا نہ جانتا ہی بعض اوقات اعتراضات کے لئے موقعہ پیدا کر دیتا ہے۔اسی معالمہ کو دیکھ لو کہ اگر اس قسم کی تفصیلات کا علم ہوتا تو کبھی یہ سوال نہ اٹھایا جاتا کہ مسجد برلن کا روپیہ کہاں گیا۔آپ لوگوں کے سامنے 9 کنال زمین سہ منزلہ مکان اور دوسری جائداد اس کی موجود ہے۔پھر اس روپیہ میں بڑھوتی بھی ہوئی۔جو اس طرح ہے کہ یہاں زمین خرید کر کے روپیہ بڑھایا گیا۔ادھر پونڈ کی قیمت گری ہوئی تھی غرض خدا نے ایسے سامان پیدا کر دئے کہ ہمیں اس روپیہ سے خاصہ منافع حاصل ہوا۔لوگوں کے مال سود سے بڑھتے ہیں۔خدا نے اس سے ہمیں بچایا اور بجائے اس کے ہمیں خاطر خواہ نفع دے دیا۔ایک لاکھ تیس ہزار عمارت زمین و دیگر مصارف پر خرچ آیا۔پچھتر ہزار تجارت پر ہے۔تیس ہزار کی جائداد قادیان میں خریدی ہوئی ہے۔اور اگر اس جائداد کی رائج الوقت قیمت لگائی جائے تو ساٹھ ہزار سے بھی زیادہ بنتی ہے۔اس طرح دو لاکھ ستر اسی ہزار کے قریب یہ روپیہ بنتا ہے پس اس میں نہ کوئی نقصان کی صورت ہے۔نہ بدنیتی کا شائبہ۔یہ محض فتنہ گروں کی فتنہ گریاں ہیں کہ جماعت میں پھوٹ ڈالوائیں۔اور اسے آئندہ دینی خدمات کرنے میں سست کر دیں۔ان سے بچنا چاہئے اللہ تعالٰی کے فضل سے کام کرنے والے مخلص ہیں۔ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ ان سے کوئی غلطی ہو جائے۔لیکن کون انسان ہے جو یہ کہے کہ میں کبھی غلطی نہیں کروں گا۔اگر کوئی ایسا ہے تو میں ان کارکنوں کو جو مخلص ہیں بدل سکتا ہوں۔حضرت یسوع مسیح کے پاس لوگ ایک مجرم عورت کو لائے اور کہا کہ یہ اس لائق ہے کہ سنگ سار کی جائے۔آپ نے کہا اچھا ٹھیک ہے۔ضرور ایسا ہی ہونا چاہئے۔لیکن پہلا پتھر اس پر وہ مارے۔جو یہ کہے کہ میں نے کبھی کوئی گناہ نہیں کیا مگر ایسا کون تھا۔نتیجہ یہ ہوا کہ وہ جو عورت کو گناہ کے الزام میں پکڑ کر لائے تھے ایک ایک کر کے چلے گئے اور عورت اکیلی کھڑی رہ گئی۔آخر یسوع مسیح نے اس عورت سے کہا اے عورت چلی جا۔تجھے پتھر مارنے والا کوئی نہیں۔اسی طرح میں بھی آج یہ کہتا ہوں کہ اگر کوئی ایسا شخص ہے جو یہ کہے کہ میں نے کبھی کوئی غلطی نہیں کی اور آئندہ کبھی کوئی غلطی نہیں کروں گا۔تو وہ سامنے آئے۔میں فورا اس کے سپرد کام کر دوں گا۔پس میں پھر کہتا ہوں کہ ایسے لوگوں کو سامنے لاؤ جو کبھی غلطی نہیں کریں گے۔میں محض اللہ کے دین کو مد نظر رکھتے ہوئے پہلوں کو بدل دوں گا۔اگر بہتر آدمی مل جائیں تو میں ایک سیکنڈ بھی دیر نہ کروں گا۔اور پہلوں کو بدل کر ان کو کام پر لگا لوں گا۔مگر ایسا کرتے ہوئے میں یسوع مسیح کے اس قول کی طرف کہ پہلا پتھر وہ مارے جس نے کبھی گناہ نہ کیا ہو۔یہ کہوں گا کہ سامنے وہ آئے جو یہ کہے میں نے کبھی کوئی غلطی نہیں کی اور کبھی کوئی غلطی نہیں کروں گا۔آنحضرت ﷺ ایک دفعہ ایک ایسے مقام سے گزرے۔جہاں لوگ کھجور لگا رہے تھے۔یہ