خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 265 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 265

265 جو اس لئے ہیں کہ اگر ضرورت پڑے تو ان کو نفع پر پیچ لیا جائے۔جس سے یہ روپیہ بڑھے گا ہی گھٹے گا نہیں۔لوگوں کے گھر سے تو جاتا ہے لیکن یہاں زیادہ ہوتا جاتا ہے۔ہمیں ایک لاکھ ستر ہزار دیا گیا تھا۔اب سوا دو لاکھ رکھا ہوا ہے۔اگر یہاں کی جائدادوں کی قیمت خرید نہ لگائی جائے بلکہ رائج الوقت قیمت لگائی جائے تو بجائے تیس ہزار کے ساٹھ ستر ہزار بن جاتی ہے۔اور یوں پھر یہ روپیہ سوا دو لاکھ کی بجائے اڑھائی لاکھ سے بھی اوپر جا پہنچتا ہے اور اگر وہ روپیہ بھی اس میں شمار کیا جائے۔جو ہم نے بطور نفع حاصل کیا اور وہ اخراجات بھی اس میں شامل کر دئے جائیں جو اس میں شامل ہونے والے ہیں۔تو یہ رقم تین پونے تین لاکھ جانتی ہے میں نہیں سمجھتا کہ باوجود اس طرح پیسے پیسے کے محفوظ ہونے کے پھر یہ سوال کیا معنے رکھتا ہے کہ روپیہ کہاں گیا۔اللہ تعالیٰ نے کچھ ایسے سامان کر دئے کہ برلن میں مسجد نہ بن سکی۔برلن کی مسجد کے لئے جو نقشہ تجویز کیا گیا تھا اس کے متعلق اندازہ تھا کہ موجودہ روپیہ سے وہ بن جائے گی لیکن جب نقشہ وہاں کی میونسپلٹی میں منظوری کے لئے دیا گیا۔تو اس نے اس مقام کے لحاظ سے کہ جس پر ہم مسجد بنانا چاہتے تھے۔ہمارے پیش کردہ نقشہ کو منظور نہ کیا اور اپنے پاس سے ایک نقشہ بنا کر کہا کہ اس کے مطابق مسجد بنائی جاسکتی ہے۔اس کے سوا کسی اور نقشہ کے مطابق مسجد بنانے کی ہرگز اجازت نہیں دی جا سکتی اور جو نقشہ اس نے تجویز کیا۔اس کے مطابق مسجد پندرہ لاکھ میں بھی نہ بن سکتی تھی۔چونکہ جماعت اتنے خرچ کی متحمل نہ ہو سکتی تھی اور نہ ہی یہ مناسب معلوم ہو تا تھا کہ اتنا روپیہ اس ملک میں مسجد بنانے کے لئے صرف کر دیا جائے۔اس لئے اس مسجد کے بنانے کا خیال چھوڑ دیا گیا اور یوں وہ مسجد نہ بن سکی۔پس یہ فتنہ گروں کی فتنہ گریاں ہیں جو جماعت کے لوگوں کو سست کرنے کے لئے کی جا رہی ہیں۔ان سے بچو۔دشمن کو تو ایسا کرنا چاہئے شیطان اپنے وعدے کو کس طرح چھوڑ دے۔لیکن کیا یہ عجیب نہیں کہ شیطان تو اپنا وعدہ پورا کرے۔اور تم اپنے وعدے پورے نہ کرو۔شیطان کا وعدہ یہ ہے کہ وہ انسان کو ورغلائے گا۔دھوکہ دے گا اور فتنہ پھیلائے گا اور انسان کا وعدہ یہ ہے کہ وہ اس کے پھندے میں نہ پھنسے گا۔پس تم کو بھی چاہئے کہ اپنے وعدے پورے کرو۔اور اس کے پھندے میں ہرگز نہ پھنسو۔دوسروں کو وعدہ بھول گیا ہے لیکن ہم گمراہ نہیں ہوئے۔تم ہر ایسے فتنہ گر کو جو فتنہ گری کے لئے تمھارے پاس آئے یہ کہہ دو۔روپیہ ہمارا دینے والے ہم، خرچ کرنے والے ہم ، تم کون ہو جو اس کے متعلق رائے زنی کرتے ہو۔اور فتنہ گری کرکے چاہتے ہو کہ ہم کو دین کی خدمت کرنے سے سست کرو۔پھر جماعت کے مال سے بھی آپ لوگوں کو واقفیت حاصل کرنی چاہئے کہ وہ کہاں سے آتا ہے