خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 254 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 254

254 28 احمدیہ جماعت کی قدر و قیمت (فرموده ۲۹ اکتوبر ۱۹۲۶ء) تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : یہ زمانہ ایسی تاریکی اور ایسی ظلمت کا زمانہ ہے کہ اس سے پہلے کبھی دنیا پر ایسی تاریکی کا زمانہ نہیں آیا اور کبھی اس پر ایسی ظلمت طاری نہیں ہوتی جیسے آج اس پر طاری ہے۔بظاہر یہ زمانہ روشنی اور تعلیم کا زمانہ کہلاتا ہے اور اس زمانہ کے حالات اور خیالات نئی روشنی کے حالات اور خیالات کہلاتے ہیں اور ان حالات و خیالات کے واقف نئی روشنی کے آدمی کہلاتے ہیں۔لیکن دین کو مد نظر رکھتے ہوئے اور روحانیت کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ بات اچھی طرح معلوم ہو جاتی ہے کہ جس طرح اس زمانہ میں جسے روشنی کا زمانہ کہتے ہیں تاریکی پھیلی ہوئی ہے ایسی کبھی نہیں پھیلی تھی۔پہلے زمانہ میں جو لوگ جہالت میں پھنسے ہوئے تھے اور تاریکی میں مبتلا تھے اس کی وجہ یہ تھی کہ ہدایت مفقود تھی لیکن دنیا کی رو ایسی کبھی نہ ہوئی تھی کہ علوم روحانیہ کا پھیلنا ہی بند ہو جائے اس زمانہ کے لوگ جہالت میں تو تھے لیکن ہر ایک چیز کی ضرورت محسوس کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ مذہب اور علوم روحانیہ ضروری شے ہیں۔یہ حقیقت آج لوگوں میں نہیں۔ان کے دلوں میں ایسی امنگ ہی نہیں۔ان کو اس بات کا احساس ہی نہیں کہ مذہب اور علوم روحانیہ کا ہماری ترقی کے ساتھ کیا تعلق ہے۔دنیا کے کاموں کے لئے ان میں تڑپ موجود ہے اور ان کے لئے ایک آگ ان کے اندر ہے۔اس کے واسطے ان میں جستجو ہے اور ایک شعلہ ان میں ہے جو ان کے اندر تے اٹھ کر سروں تک جا رہا ہے اور وہ ہر وقت اس سے یہ سمجھتے ہیں کہ ایک اور اونچا مقام ہے جو ابھی ہم نے حاصل کرنا ہے۔اور جب یہ سب کچھ اسی تڑپ کے ماتحت ہے تو اس کے یہ معنے ہیں کہ گویا وہ تڑپ ہی ان کو غلط راہ پر لے جا رہی ہے۔اگر ان میں سے کوئی ذرا اور آگے بڑھنا چاہتا ہے اور ترقی کرنا چاہتا ہے تو اس کا راستہ وہ یہی سمجھتا ہے کہ ان باتوں میں کوئی تبدیلی پیدا کر لینے سے وہ مقام حاصل کر لیا جا سکتا ہے اور اس کا