خطبات محمود (جلد 10) — Page 255
255 خیال مذہب کی طرف آتا ہی نہیں علوم روحانیت کی طرف اس کی توجہ ہوتی ہی نہیں جو کامیابی کا اصل ذریعہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ مذہب ان کے پاس نہیں ہے اور اگر ہے تو وہ نام کا ہے کام کا نہیں۔زیادہ سے زیادہ اگر کچھ ان کے پاس ہے تو وہ الفاظ ہیں جن کی ان کے حالات کے مطابق کوئی حقیقت ہی نہیں جسم ہے پر جان نہیں۔گویا وہ مذہب کے الفاظ کبھی بولتے ہیں تو صرف بولتے ہی ہیں۔ان پر عمل ان کا ہرگز نہیں اور اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ دنیا کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔آج عیسائی عیسائی نہیں رہے۔ہندو ہندو نہیں رہے۔سکھ سکھ نہیں رہے۔مسلمان مسلمان نہیں رہے۔جس طرح وہ پہلے عیسائی کہلاتے تھے آج بھی عیسائی کہلاتے ہیں جس طرح وہ پہلے ہندو کہلاتے تھے آج بھی ہندو کہلاتے ہیں۔جس طرح وہ پہلے سکھ کہلاتے تھے آج بھی سکھ کہلاتے ہیں۔جس طرح وہ پہلے مسلمان کہلاتے تھے آج بھی مسلمان کہلاتے ہیں۔مگر ان کی اس حالت میں جو آج سے پہلے تھی اور اس حالت میں جو آج ہے بڑا فرق ہے آج سے پانچ سو سال پہلے جو عیسائی تھے وہ آج نہیں ہیں اسی طرح مسلمان بھی آج ویسے نہیں رہے جیسے آج سے پانچ سو سال پہلے تھے۔وہ اسلام سے بالکل دور ہو گئے ہیں یہی حال ہندوؤں کا ہے۔جس طرح پہلے زمانہ میں ہندو ہندو کہلاتے تھے۔اب بھی وہ ہندو کہلاتے ہیں مگر جیسے وہ آج سے کئی سو سال پہلے ہندو تھے ویسے آج نہیں رہے نام رہ گئے ہیں حقیقت نہیں رہی چنے ہیں پر اندر کچھ نہیں۔اور یہ ایسی ہی بات ہے کہ انسان کے کپڑے بھیڑیا پہن لے یا بھیڑ کی کھال اوڑھ لے۔پس جس طرح بھیڑیا انسان کے کپڑے پہن کر انسان نہیں ہو جاتا اور جس طرح بھیڑ بھیڑیے کی کھال اوڑھ کر بھیڑیا نہیں بن جاتی اسی طرح ان لوگوں کا حال ہے کہ لباس تو مذہب کا ہے لیکن اندر مذہب سے خالی ہے لیکن جس طرح بھیڑیا انسان کے کپڑے پہن کر انسان کا نام تو ایک رنگ میں پالیتا ہے مگر انسان بن نہیں جاتا یا جس طرح بھیڑ بھیڑیے کی کھال اوڑھ کر بھیڑیے کی مشابہت سے بھیڑیا نام تو پالیتی ہے۔مگر در حقیقت وہ ویسی نہیں ہو جاتی اسی طرح ان کا حال ہے کہ صرف کہلاتے ہی ہیں کہ ہم ہندو ہیں۔ہم عیسائی ہیں۔ہم سکھ ہیں۔ہم مسلمان ہیں مگر یہ لوگ صرف ہندو یا سکھ یا عیسائی یا مسلمان نام پالینے سے وہ بچے ہندو وہ بچے سکھ وہ بچے عیسائی اور وہ بچے مسلمان نہیں بن سکتے جو آج سے پہلے تھے صرف نام رکھ لینے سے کوئی شخص وہ نہیں بن جاتا جس کا کہ وہ نام رکھ لے۔سب سے زیادہ قابل افسوس مسلمانوں کی حالت ہے کہ ہندوؤں اور عیسائیوں سے بڑھ کر وہ اپنے مذہب سے دور۔حقیقت کے لحاظ سے تو وہ بھی یعنی ہندو اور عیسائی اور سکھ وغیرہ بھی اپنے اپنے مذہب سے دور ہیں لیکن لگاؤ کے لحاظ سے وہ قریب ہیں۔ایک عیسائی خواہ وہ یہ ہو جائے۔عیسی کا نام لینے پر اسے جوش آجائے گا۔وہ باوجود اس کے کہ دہریہ ہو گا عیسائیوں کی طرح گرجے