خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 253 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 253

253 کہ قلعہ کے باہر رہ کر اسے پھر خطرہ ہو جائے قلعہ یہی ہوتا ہے کہ اس میں داخل ہو کر ایک شخص خطروں سے محفوظ ہو جاتا ہے۔ اسی طرح بیعت بھی ایک قلعہ ہوتی ہے جو شخص بیعت کر لیتا ہے وہ گویا قلعہ میں داخل ہو جاتا ہے جہاں اس کے لئے کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔ اس لئے اس بات کو ہمیشہ مد نظر رکھنا چاہئے کہ کوئی ایسی بات نہ ہو جس سے ایک شخص قلعے میں آتا آتا رک جائے اور پھر اس کے لئے خطرے پیدا ہو جائیں۔ پس دوستوں کو چاہئے کہ جس وقت کسی کو ہدایت ہو جائے اس وقت اسے بیعت میں دخل کرا لینا چاہئے۔ خواہ وہ جلسہ کے دنوں کے قریب ہی کیوں نہ ہو۔ اور خواہ جلسہ میں ایک دن ہی کیوں نہ باقی رہ گیا ہو۔ اور اس بات کا فکر نہ کرو کہ جلسہ پر ہی ان کو بیعت کرانی چاہئے۔ ان کو تو اس وقت بیعت کرا دو۔ جلسہ کے موقعہ پر خدا تعالیٰ اور آدمی دے دے گا۔ تم لوگوں کو لاؤ تو سہی وہ یہاں کے حالات دیکھ کر آپ ہی اس طرف متوجہ ہو جائیں گے اور اس بات سے مت گھبراؤ کہ یہ لوگ جلسے پر جا کر گالیاں دیں گے یا کسی اور قسم کی بد زبانی کریں گے۔ میں نے دیکھا ہے۔ دشمن گالیاں دیتے ہوئے آئے ۔ لیکن بیعت کرکے گئے۔ پس گالیوں یا اور باتوں سے مت ڈرو۔ تم ساتھ لانے کی کوشش کرو اور جو بیعت کے لئے تیار ہوں انہیں اسی وقت بیعت کراؤ۔ میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالی ہمیں ان باتوں کی توفیق دے اور ہم اس کی وحی اور اس کے کلام پر ایمان لانے والے بنیں۔ ہمارے قلوب پر اس کے الہام نازل ہوں اور ہم ان نشانوں پر سے اندھے ہو کر نہ گزر جائیں جو سورج کی طرح روشن ہیں اور جو ہماری رہنمائی کے لئے ہیں۔ میں یہ دعا بھی کرتا ہوں کہ ہم ان الہاموں اور ان نشانوں سے جتنا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکیں اٹھائیں آمین ا سیرت ابن ہشام حالات غزوه حسنین سیرت المہدی حصہ اول روایت حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب ۳ تذکره صه ۵۲ ۴ سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے برادر اکبر (الفضل ۲۹ اکتوبر ۱۹۲۶ء)