خطبات محمود (جلد 10) — Page 252
252 تھا کہ میں نے اس تحریک کے متعلق سنا۔قادیان واپس آکر میں نے اپنے حصہ کا چندہ بھیجا۔تو مجھے یہ سن کر سخت تعجب ہوا کہ چندہ وصول کرنے والوں نے کہا کہ یہ پہلا چندہ ہے جو اس مد میں ہمیں وصول ہوا ہے۔بعض نے تو یہاں تک کہا کہ ہمیں معلوم ہی نہیں کہ ایسی کوئی تحریک بھی ہوئی ہے۔یہ درد پیدا کرنے والی باتیں ہیں۔پس ہماری جماعت کے دوستوں کو چاہئے کہ ان باتوں کی خاص احتیاط رکھیں۔یہ چندے ایسی چیز نہیں کہ ان کے متعلق کسی کو تمھیں کچھ کہنا پڑے بلکہ یہ تمھیں اپنے آپ ادا کرنے چاہیں۔اور میرے نزدیک تو یہ شرم کی بات ہے کہ کوئی کہے کہ لاؤ جی چندہ دو بلکہ یہ چاہئے کہ کوئی کہنے نہ پائے کہ تم چندہ ادا کر دو۔تا یہ اس کی طرف منسوب نہ ہو سکے۔کہ فلاں نے کہا ہی تو چندے ادا کئے گئے کیونکہ اس طرح یہ دین اس کا ہو جائے گا۔اور یہ سمجھا جائے گا کہ اسے تو دین کا خیال نہ تھا جسے خیال تھا اس نے آکر کہا۔اگر اسے خود خیال ہوتا تو وہ آپ ہی اس کا فکر کرتا اور اپنے آپ اس کے لئے چندہ دیتا اور اس میں حصہ لیتا پس جو اس موقعہ پر ایسا کرتا ہے اور اپنے آپ اس میں حصہ لیتا ہے اور اس بات کی طرف نہیں دیکھتا کہ کوئی آکے اسے چندے کے لئے کہے۔تو وہ اس الہام کو پورا کرتا ہے جو قیامت تک پورا ہوتا رہے گا۔جو الہام بار بار پورا ہو وہ اس الہام کے بالمقابل افضل ہوتا ہے جو ایک دفعہ پورا ہو۔حضرت صاحب کا یہ الہام بھی ان الہاموں میں سے ہے جو بار بار پورے ہونے والے ہیں۔یہ الہام آج ہی نہیں پورا ہو رہا بلکہ قیامت تک پورا ہوتا رہے گا۔قرآن کریم اسی لئے توریت پر افضل ہے کہ یہ ا قیامت تک ہے۔اسی طرح حضرت صاحب کا یہ الہام بھی اعلیٰ الہاموں اور اور اعلیٰ وحیوں میں سے ہے جو قیامت تک پورا ہو تا رہنے والا ہے۔پس جو اس میں چندہ دیتے ہیں وہ اس کے پورا کرنے میں حصہ لیتے ہیں۔اسی طرح جو یہاں آتے ہیں وہ بھی اس کے پورا کرنے میں حصہ لیتے ہیں۔اور جو دوسروں کو ساتھ لانے کی کوشش کرتے ہیں۔وہ بھی اس کے پورا کرنے میں حصہ لیتے ہیں۔پس میں یہ کہتا ہوں کہ دوست جہاں اس کی مالی خدمت کریں۔وہاں وہ خود بھی آئیں اور دوسروں کو بھی ساتھ لائیں۔میں ایک اور ضروری بات بھی کہنی چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ بعض دوست تبلیغ کرتے ہیں اور جب ایک آدمی حق بات کو پا کر بیعت کے لئے تیار ہو جاتا ہے تو وہ جلسہ کے قریب کے دنوں میں یہ کہتے ہیں کہ چلو جلسہ پر بیعت کر لیا مگر یہ ایک غلطی ہے۔ایک شخص جسے ہدایت ہو گئی ہے کیا معلوم