خطبات محمود (جلد 10) — Page 251
251 میں شامل ہونا چاہئے۔اور ان کاموں میں شامل ہونے سے پہلے کچھ باتیں ہیں جو اسے پوری کرنی چاہیں۔با تیک من كل فج عمیق خدا کا کلام ہے اور خدا اسے پورا کرے گا اور پورا کر بھی رہا ہے۔مگر ہم کو بھی جو اس میں شامل ہونے کے لئے کہا گیا ہے تو ہمیں چاہئے کہ لوگوں کو لانے سے پہلے ان کی مہمان نوازی کے سامان مہیا کریں۔کیونکہ سب باتوں سے پہلے مہمان نوازی کی جاتی ہے۔دیکھو اگر کسی کے گھر میں چند مہمان آجائیں اور آگے مہمان نوازی کے سامان نہ ہوں تو شرمندگی ہوتی ہے اسی طرح ہمارا بھی حال ہے۔اگر ہم لوگوں کو یہاں لاتے ہیں تو ہمارا یہ بھی تو کام ہے کہ ان کی مہمان نوازی کے سامان بھی کریں۔پھر ہمارے مہمان بھی تو معزز مہمان ہیں۔کیونکہ خدا ان کو اپنا مہمان کہتا ہے ہمیں تو ثواب کے لئے اس میں شامل کر رکھا ہے۔پس ہمیں اس طرف توجہ کرنی چاہئے۔اور زیادہ خصوصیت کے ساتھ قادیان والوں کو توجہ کرنی چاہئے کہ ان تمام آنے والوں کے لئے خدا نے ان کو میزبان بنایا ہے۔پس اگر سب دوست نومبر کی آمد کا دسواں حصہ دے دیں تو جلسہ۔کا خرچ چل سکتا ہے۔ہماری بعض ذمہ داریاں ہیں۔اور پھر ان ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ کچھ انعامات ہیں کہ جن کا ہمارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے۔پس ان انعامات کے بالمقابل یہ کوئی ایسی رقم نہیں جو بوجھ ہو۔دوسرے بھی اس میں حصہ لیں۔لیکن قادیان کی جماعت کو خصوصیت سے اس میں حصہ لینا چاہئے۔کیونکہ دراصل قادیان کی جماعت ہی میزبان ہے۔اور یہ ظاہر ہے کہ میزبان کو اپنے مہمان کی خاطر ہر قربانی کرنی پڑتی ہے۔بیت المال والوں نے اعلان کیا ہے کہ اس دفعہ جلسے کے اخراجات کے لئے ہمیں ہزار روپیہ کی ضرورت ہے۔میرے نزدیک ایسے کام کے لئے یہ رقم جمع کر لینی کوئی مشکل بات نہیں۔لوگ معمولی شادیوں پر ہزاروں روپے لگا دیتے ہیں۔یہ دین کی شادی ہے اور اگر کوئی شخص شادی پر ہزاروں روپے لگا سکتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے الہام کی شادی پر کیوں نہیں لگا سکتا۔پس میں تو ایسا خیال ہی نہیں کر سکتا کہ ہماری جماعت کے دوست اس سے ہاتھ کھینچ لیں گے۔اس میں ہزار روپے کی رقم میں سے جو سالانہ جلسہ کے اخراجات کے لئے تجویز کی گئی ہے۔قاریان کی جماعت کے ذمہ پانچ ہزار روپیہ لگایا گیا ہے گو قادیان کی جماعت کی آمدنیاں قلیل ہیں۔مگر میں سمجھتا ہوں کہ اس کے حوصلے وسیع ہیں اور وہ اس رقم کو بہت جلد ادا کر دے گی۔میں ڈلہوزی ہی