خطبات محمود (جلد 10) — Page 247
247 جاتا نہ تھا۔مجھے وہ دن بھی یاد ہیں کہ میں چھوٹا سا تھا حضرت صاحب مجھے بھی ساتھ لے جاتے۔مجھے یاد ہے برسات کا موسم تھا ایک چھوٹے سے گڑھے میں پانی کھڑا تھا میں پھلانگ نہ سکا تو مجھے خود اٹھا کے آگے کیا گیا۔پھر کبھی شیخ حامد علی صاحب اور کبھی حضرت صاحب خود مجھے اٹھا لیتے۔اس وقت نہ کوئی مہمان تھا اور نہ یہ مکان تھے۔کوئی ترقی نہ تھی مگر ایک رنگ میں یہ بھی ترقی کا زمانہ تھا۔کیونکہ اس وقت حافظ حامد علی صاحب آچکے تھے۔اس سے بھی پہلے جب کہ قادیان میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو کوئی شخص نہ جانتا تھا خدا تعالیٰ نے یہ وعدہ کیا کہ تیرے پاس دور دور سے لوگ آئیں گے اور دور دور سے تحائف لائے جائیں گے۔اس وقت کی حالت کا اندازہ لگاتے ہوئے خدا تعالٰی کے اس وعدے کو ان الفاظ میں بیان کیا جا سکتا ہے۔اے وہ شخص جس کو کہ اس کے محلے کے لوگ بھی نہیں جانتے جس کو کہ اس کے شہر سے باہر دوسرے شہروں کے انسان نہیں جانتے جس کی گمنامی کے حالت سے لوگوں کو یہی خیال تھا کہ مرزا غلام قادر صاحب ۴ ہی اپنے باپ کے بیٹے ہیں۔میں تجھ جیسے شخص کو عزت دوں گا۔دنیا میں مشہور کروں گا۔عزت چل کر پاس آئے گی۔عزت دو طرح کی ہوتی ہے۔ایک وہ عزت ہے جو دوسروں کے گھر جا کر لی جاتی ہے مثلا" کسی کے کام کر دیئے۔کسی کی مقدمات میں خدمت کر دی۔کسی کے بیاہ شادی میں مدد دی۔کسی کے خیال کی تائید کر دی۔یا گورنمنٹ کے ساتھ ہو کر بعض جرائم کا انکشاف کرا دیا۔یا سرکار کے کاموں میں جا کر مدد کر دی۔جس سے خوش ہو کر بعض کو اس کی طرف سے کوئی خطاب مل گیا۔بعض کو زمین مل گئی۔بعض کو اور قسم کی رعائتیں حاصل ہو گئیں۔تو ایک عزت تو اس طرح ملتی ہے اور یہ عزت دوسروں کے گھر جا کر لی جاتی ہے۔لیکن یہ حقیقی عزت نہیں ہوتی بلکہ ذلت ہوتی ہے۔دوسری قسم شخص کی عزت وہ عزت ہے جس کے لئے لوگوں کے دروازوں پر نہیں جانا پڑتا بلکہ وہ لوگ خود اس کے گھر آکر اس کو عزت دیتے ہیں۔اور یہی حقیقی عزت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جو عزت ملی وہ اسی قسم کی ہے لوگ چل کر آئے اور عزت دی اور یہ سب باتیں اس نشان کے ماتحت ہو ئیں اور ہو رہی ہیں جو خدا تعالیٰ نے حضرت صاحب کو اس وقت دیا جب کہ آپ کو قادیان میں بھی کوئی نہ جانتا تھا۔دشمن بھی اور بعض نادان دوست بھی اعتراض کرتے تھے کہ مرزا صاحب گھر بیٹھے رہتے ہیں باہر نہیں نکلتے اور دوسرے لوگوں کی طرح ادھر ادھر نہیں پھرتے۔لیکن وہ نادان ہیں جو ایسا کہتے ہیں۔