خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 244 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 244

244 نے اپنی نبوت اور بشریت کا اظہار کیا ہے اور اس سے وہ شبہ جو آپ کی الوہیت کے متعلق پیدا ہو سکتا تھا دور کر دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں بھی اس قسم کے واقعات ملتے ہیں۔گورداسپور میں آپ پر ایک مقدمہ کیا گیا۔فریق مخالف کی طرف سے مجسٹریٹ کو جو ان کا ہم قوم تھا کہا گیا کہ یہ بدلہ لینے کا موقعہ ہے اگر آج بدلہ نہ لیا تو قومی غدار سمجھے جاؤ گے۔لاہور میں اس کے متعلق ان کا جلسہ ہوا۔جس میں یہ سب باتیں طے ہوئیں۔خدا کے تصرف بڑے زبردست ہوتے ہیں اور اس کی حکمتیں باریک۔ان ہی میں سے ایک شخص نے ایک احمدی کو یہ سب قصہ آسنایا کہ یہ فیصلہ کیا گیا ہے اور کہا کہ آپ ان کو خبر کر دیں لیکن میرا نام نہ لیا جائے۔کیونکہ اس سے میں بدنام ہو جاؤں گا اور ممکن ہے کہ ان کی طرف سے میرے ساتھ کوئی سخت سلوک کیا جائے۔جن لوگوں نے اس وقت کی حالت کو دیکھا ہے وہ خوب جانتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس وقت باغ میں زمین پر لیٹے ہوئے تھے اور جو پاس بیٹھے ہوئے تھے ایک نے ان میں سے نہایت گھراہٹ کے ساتھ کہا کہ اب معلوم نہیں کیا ہو گا۔یہ سنا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اٹھ کر بیٹھ گئے۔اور بڑے زور سے فرمایا کہ آپ کو خدا پر ایمان نہیں۔خدا کے نبی شیر ہوتے ہیں وہ اگر مجھ پر ہاتھ ڈالے گا تو شیر پر ہاتھ ڈالے گا۔تو یہ ایمان نفس کے مشاہدات سے آتا ہے۔اور جس کو ایسا ایمان حاصل ہو جائے۔اس کے یقین اور اخلاص میں کوئی تزلزل واقع نہیں ہوتا۔اس کی امیدوں میں کوئی تزلزل واقع نہیں ہو تا۔اس کے ایمان میں کوئی تزلزل واقع نہیں ہو تا بلکہ اگر کوئی اور بھی واقعہ گذرتا ہے تو وہ اور بھی بڑھتا ہے۔دوسرے لوگ جس بات سے خوف کھا جاتے ہیں اور جس سے ان کے ایمان میں تزلزل پیدا ہو جاتا ہے جس سے ان کے اخلاص میں تزلزل پیدا ہو جاتا ہے۔جس سے ان کے یقین میں نقص پیدا ہو جاتا ہے۔اسی سے ان لوگوں کا ایمان بڑھتا ہے اور ان کے اخلاص میں ترقی ہوتی ہے اور ان کے میں زیادتی پیدا ہوتی ہے۔اور جب کوئی ایسا حادثہ گذرتا ہے تو ایسا ایمان کم نہیں ہو تا بلکہ بڑھتا ہے۔خدا تعالیٰ سے دور رہنے والوں کی آواز مایوسی پر جا کر ختم ہو جاتی ہے۔لیکن خدا کے ماننے والوں کی آواز شروع میں دھیمی اٹھتی ہے۔نرمی کے ساتھ بلند ہوتی ہے مگر ایسی آواز کا خاتمہ امنگوں پر ہوتا ہے۔امیدوں پر ہوتا ہے۔حزقیل۔دانیال عزرا۔حبقوق۔میکاہ۔یرمیاہ و غیرہ کی کتابوں کو پڑھ کر دیکھ لو سب کی آوازیں دھیمی ہوں گی اور افسوس کے ساتھ شروع ہوں گی لیکن