خطبات محمود (جلد 10) — Page 232
232 25 تعمیر احمدیہ بیت الذکر لندن اور ہماری ذمہ داری بمقام ڈلہوزی - فرموده یکم اکتوبر ۱۹۲۶ء) تشهد تعوذ سورہ فاتحہ اور سورۃ الاعلیٰ کی ابتدائی آیات کی تلاوت کے بعد فرمایا : چونکہ ایک ایسے ملک میں جس میں خدائے واحد کا نام لینے والے لوگ آج سے ایک عرصہ پہلے نہیں ملتے تھے۔جہاں کے لوگ شرک کی تعلیم پھیلانے کا مرکز سمجھے جاتے تھے۔وہاں ہماری جماعت کی طرف سے ایک مسجد تعمیر کی گئی ہے۔جو اس لحاظ سے پہلی مسجد ہے کہ اس سے پہلے اس دار الحکومت میں کوئی مسجد نہ تھی۔پھر اس لحاظ سے بھی پہلی مسجد ہے کہ مسلمانوں نے اپنے روپے سے بنوائی ہے (اس سے پہلے ایک مسجد تھی جو اول تو لنڈن سے باہر تھی۔دوسرے اس کو ایک انگریز نے بنوایا تھا۔گو مسلمانوں کے روپے سے بنوایا تھا) چونکہ اس کا افتتاح انشاء اللہ اسی ہفتہ میں ہونے والا ہے۔اس لئے آج کا خطبہ میں اس کے متعلق ہی پڑھوں گا۔مسجد اللہ کا ذکر کرنے کے لئے بنوائی جاتی ہے۔اور اس لئے کہ اللہ کا نام لینے والے لوگوں کی جماعت تیار کی جائے۔اس لئے مسجد وہی مبارک ہو سکتی ہے کہ جس میں اللہ کا نام استقلال کے ساتھ لینے والے لوگ جمع ہوں۔دوسرے مکانوں سے مسجد علیحدہ اور ممتاز اسی وجہ سے ہوتی ہے کہ اس میں خدائے واحد کا نام لینے والے لوگ جمع ہوتے ہیں۔اگر خدا کا ذکر کرنے والے لوگ نہ ہوں تو مسجد کا بنوانا بے سود ہوگا۔خود قرآن کریم سے ظاہر ہے کہ بعض مسجدیں صرف بے برکت ہی نہیں ہوتیں۔بلکہ ایمان کے ضائع کرنے کا موجب ہوتی ہیں۔رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں جو مسجد آپ کی تھی۔اس کی بنیاد تقویٰ پر تھی۔اور اللہ تعالیٰ کی رضامندی پر تھی۔اس کے مقابلہ پر ایک اور مسجد بنائی گئی جس کی بنیاد کھوکھلی تھی جو گرنے والی تھی۔پس کسی مکان کا مسجد نام رکھنے ہی سے وہ بابرکت نہیں ہو جاتا۔بلکہ اس میں اللہ کا نام استقامت اور محبت کے ساتھ لینے سے ہوتا