خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 19 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 19

19 ہیں اور اگر کسی جماعت میں اتفاق و اتحاد ترقی کرتا۔دینی کاموں میں چستی پیدا ہوتی۔بنی نوع انسان کی ہمدردی کا اچھا نمونہ دکھاتے اور قربانیاں زیادہ کرتے ہیں تو یہ بھی ان کی کوششوں کا نتیجہ سمجھا جائے گا اور اس کے بہت بڑے حصہ کی تعریف کے حق دار امراء ، پریذیڈنٹ ، سیکرٹری اور دوسرے کارکن ہوں گے۔پس میں اس خطبہ کے ذریعہ قادیان کے کارکنوں اور باہر کے کارکنوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ مختلف جماعتوں کی کامیابیاں اور چستیاں ، ہوشیاریاں یا قربانیاں یا پھر مستیاں اور کو تاہیاں جو نظر آئیں۔ان کے بہت حد تک وہی ذمہ دار ہیں اور ہو سکتا ہے کہ کارکنوں کی ذراسی غفلت ایک جماعت کو بالکل نکما کر دے اور ممکن ہے کہ ان کی چستی ایک غافل اور سست جماعت کو چست اور ہوشیار بنا دے۔بسا اوقات ایسا نظر آتا ہے کہ ایک جماعت میں جب کوئی شخص چلا جاتا ہے تو اس جماعت کی کایا پلٹ دیتا ہے۔وہ جماعت سستی اور غفلت کے چولے کو اتار کر نیا لباس پہن لیتی ہے۔پھر اس کے مقابلہ میں ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ بعض جماعتیں خوب چستی اور جوش سے کام کر رہی ہوتی ہیں۔لیکن جب ان میں سے کوئی اچھا کار کن تبدیل ہو کر کسی دوسری جگہ چلا جائے یا فوت ہو جائے یا کسی اور وجہ سے وہ جماعت اس کی خدمات سے محروم ہو جائے تو معا" اس میں تفرقہ اور شقاق پیدا ہو جاتا ہے۔ان حالات اور واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ جماعت کے کارکنوں پر بہت بڑی ذمہ داریاں ہیں اور جماعت کے دوستوں کا فرض ہے کہ جس کا رکن کو کسی کام کے لئے چنیں۔اس کے متعلق پہلے دیکھ لیں کہ وہ کام کرنے کے قابل ہے یا نہیں۔تا نام کے افسر اور نام کے کارکن نہ ہوں۔بلکہ حقیقتاً دوسروں کے لئے نمونہ ہوں اپنی قربانی اپنی ہوشیاری اور اپنی چالاکی سے جماعت کی بہتری اور ترقی کی کوشش کریں۔اپنے جذبات کو دبانے کے عادی ہوں تاکہ ان کے نمونہ کو دیکھ کر دوسرے لوگ بھی اپنے جذبات کو دبائیں۔وہ خود قربانی کے عادی ہوں تا دوسرے ان کے نمونہ کو دیکھ کر قربانی کریں۔وہ خود تقویٰ و طہارت میں اعلیٰ نمونہ دکھائیں تا دوسرے ان کا نمونہ دیکھ کر تقویٰ و طہارت پیدا کریں۔" - پھر میں ان لوگوں سے جن کے ہاتھ میں انتخاب کے ذریعہ یا تقرر کے ذریعہ جماعت کی باگ ہے۔کہتا ہوں وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور خود اعلیٰ درجہ کی قربانیاں دکھانے کی کوشش کریں۔بغیر اس کے کہ وہ خود اعلیٰ قربانیوں کے عادی ہوں۔دوسروں کو اعلیٰ قربانیوں کے قابل نہیں بنا سکتے۔جب تک جماعت کی تربیت اس طرح نہ کی جائے۔جس طرح ڈاکٹر مریض کی نگرانی کرتا ہے۔اس