خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 215 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 215

215 آہستہ آہستہ هر که در کان نمک رفت نمک شد کے مطابق ان خیالات میں ایسا پھنستا ہے کہ کوئی دوسرا خیال اس پر اثر نہیں کرتا۔جیسے اگر غیر احمدیوں کو نبوت کا مسئلہ سمجھا ئیں تو سب کچھ سمجھ لینے کے بعد پھر بھی وہ کہہ دیتے ہیں کہ پھر کلمہ بھی نیا بنانا چاہئے۔نماز بھی نئی بنانی چاہئے۔حالانکہ ہم جو کچھ ان کو نبوت کے مسئلہ کے متعلق سمجھاتے ہیں اس کا یہ مفہوم نہیں ہو تا مگر چونکہ پرانے خیالات کا اثر ان کے دماغ پر ہوتا ہے۔اس لئے جب بھی نبوت کا مسئلہ پیش ہو گا ان کے دماغ فورا اس طرف جائیں گے کہ جب نبی ہو تو کلمہ بھی نیا ہونا چاہئے۔تو بات کے سمجھنے میں اس طرح بھی غلطی لگ سکتی ہے۔میرے یقین کی رو سے تمام وہ پیشگوئیاں جو حضرت مسیح موعود کے لئے تھیں۔وہ تمام کی تمام ہمارے سلسلے کے بانی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات میں پوری ہو چکی ہیں۔اور چونکہ وہ سب کی سب آپ کی ذات میں پوری ہو چکی ہیں اس لئے اب کوئی اور مسیح موعود نہیں۔جیسا کہ آپ نے خود بھی فرمایا ہے کہ میرے بعد کوئی ایسا مسیح نہیں جو موعود ہو۔ہو سکتا ہے کہ بعد میں مسیح ہوں۔اور ہو سکتا ہے کہ پہلے بھی ہوئے ہوں۔لیکن جسے رسول کریم ﷺ نے موعود کہا وہ حضرت مرزا صاحب ہی تھے آپ کے سوا اور کوئی نہیں۔پس یہ تو ہو سکتا ہے کہ آپ کی مسیحیت کا پر تو اوروں پر بھی پڑ جائے اور یہ دروازہ قیامت تک کے لئے کھلا ہے مگر جو مسیح موعود ہے وہ ایک ہی ہے۔دوسرا کوئی نہیں۔پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ کے متعلق جو پیشگوئیاں ہیں وہ آپ کے خدام کے ذریعہ پوری ہوں۔اور یہ خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی فرمایا ہے کہ ہمارے متعلق پیشگوئیاں ہیں ان میں سے بعض ہمارے مریدوں کے ذریعہ پوری ہوں گی اور میں خیال کرتا ہوں خطیب کا بھی یہی مطلب ہو گا کہ حضرت مسیح موعود کے متعلق بعض پیشگوئیاں میرے ذریعہ پوری ہوئی ہیں۔جیسا اس شکایت کے لکھنے والے نے بھی اپنے رقعہ میں جو مثال دی ہے اس سے ظاہر ہے کہ انہوں نے کہا دمشق میں مسیح موعود کے تشریف لے جانے کی متعلق پیشگوئی تھی وہ میرے ذریعہ پوری ہوئی۔اس پیشگوئی کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھا ہے کہ میں یا میرے خلفاء میں سے کوئی خلیفہ دمشق میں جائے گا۔اب جس کے ذریعہ یہ پیشگوئی پوری ہوئی۔اس کے متعلق یہ تو کہا جا سکتا ہے کہ اس پر حضرت مسیح موعود کی مسیحیت کا پر تو پڑا مگر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ