خطبات محمود (جلد 10) — Page 191
191 21 وبا کے دنوں میں پوری پوری احتیاط کریں (فرموده ۴ جون ۱۹۲۶ء) تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : میرا منشا تو آج ایک اور موضوع پر خطبہ کہنے کا تھا لیکن جمعہ کی نماز پر آنے سے پہلے چند ایسے محرکات پیدا ہو گئے ہیں کہ مجھے وہ موضوع بدلنا پڑا۔ہمارے دوستوں کو معلوم ہے کہ قادیان میں بعض کیس طاعون کے ہوئے ہیں۔اگرچہ یہ ایک خطرناک بات ہے۔لیکن اس سے بھی زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ متواتر بعض محلوں اور علاقوں میں سے چوہے نکل رہے ہیں۔بلکہ بیسیوں گھر ایسے ہیں جن سے پلیگ کے مرے ہوئے چوہے نکلے۔در حقیقت طاعون کا کیس اتنا خطرناک نہیں جتنا چوہا۔کیونکہ سب سے پہلے یہ بیماری چوہے کو ہوتی ہے اور چوہے سے پھیل کر انسان کو لگتی ہے۔چوہے کے جسم میں اس بیماری سے ایک زہر پیدا ہو جاتی ہے جو بعد ازاں پھیل جاتی ہے۔چوہے پر بیٹھنے والی لکھی جو ہوتی ہے وہ گویا چشمہ ہوتی ہے طاعون کا۔کیونکہ زہر کے پھیلانے کا وہی بڑا سبب ہوتی ہے۔جب چوہا مر جاتا ہے تو وہ اس سے اڑ کر انسان پر آ بیٹھتی ہے۔اور اس طرح وہ طاعون کے پھیلانے کا باعث ہو جاتی ہے۔پس طاعون کے بیماروں کا وجود اتنا خطرناک نہیں جتنا کہ چوہوں کا۔مجھے نہیں یاد کہ کبھی پہلے بھی اس رنگ میں یہاں سے چوہے نکلے ہوں۔ممکن ہے کبھی نکلے ہوں اور مجھے بچپن کی وجہ سے یاد نہ ہو۔مگر طاعون ۱۹۰۳ء ۱۹۰۴ء یا ۱۹۰۵ء تک یہاں ہوئی۔اس کے بعد اگر کبھی پڑی تو خدا کے فضل کے ماتحت ایسی سخت نہیں جیسی اور علاقوں میں۔ممکن ہے یہ بات مجھے یاد نہ رہی ہو۔مگر جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے چو ہے اس کثرت کے ساتھ یہاں سے کبھی نہیں نکلے جس کثرت کے ساتھ اب نکل رہے ہیں۔یہ کثرت بتاتی ہے کہ زہر