خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 185 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 185

185 فلاں تاریخ کو ادا کر دوں گا اور بعد میں وہ اگر یہ کہے کہ مجھے خدا پر امید تھی کہ میں دید و نگا تو ایسا آدمی جھوٹ بولتا ہے۔وہ ایک کروڑ روپیہ کسی سے اس امید پر کیوں نہیں لے لیتا اور صرف دس روپیہ کی امید کیوں رکھتا ہے۔آخر اس کو کہنا پڑے گا کہ اس کی علامات نہیں تھیں کہ میں ایک کروڑ روپیہ خدا تعالیٰ سے لے سکتا ہوں۔پس ہر وہ شخص جو قرض لیتا ہے اور دینے کا دن مقرر کرتا ہے اور دیتا نہیں اور کہتا ہے کہ خدا پر مجھے امید تھی وہ ایک گناہ کا ارتکاب کرتا ہے۔یہ فریب ہے جو اس رنگ میں وہ کرتا ہے کیونکہ اللہ تعالی پر امید دو طرح ہوتی ہے۔یا تو علامتیں ظاہر ہو جائیں اور یا خدا کی طرف سے وعدہ ہو جائے۔اگر وعدہ ہو جائے تو جو چاہے کرے کیونکہ خدا تعالٰی وعدہ کر کے پھر اس کے خلاف نہیں کرتا۔اور پھر بعض وقت وہ وعدہ اس منشاء کا ہوتا ہے کہ پہلے ایک شخص قرضہ لے اور پھر خدا اسے دے۔رسول کریم کے ساتھ بھی خدا کے وعدے تھے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ بھی خدا کے وعدے ہوئے۔پس ایسے وعدوں کے مطابق بسا اوقات یہ لوگ قرض لیتے ہیں۔بعض دفعہ قرض سے ان کے اخلاص کا امتحان لینا مد نظر ہوتا ہے۔بعض دفعہ ان کی بشریت کا اظہار مقصود ہوتا ہے۔معاملات کی درستی بھی مد نظر ہوتی ہے کہ لوگ دیکھیں کہ ایسے شخص قرض لے کر کس طرح ادا کرتے ہیں اور بھی کئی حکمتیں اس میں ہوتی ہیں۔مگر جس کے ساتھ ایسا وعدہ نہیں اس کا کوئی حق نہیں کہ وہ قرض لے اور اگر وہ ایسا کرتا ہے تو بد دیانت ہے لیکن جس کو امید ہو مثلاً اگر کوئی پچاس روپے کا ملازم ہو اور وہ کسی سے تنخواہ کے وعدہ پر کچھ روپے قرض لے لے اور اس کے دس پندہ دن بعد اگر اس کا مالک اس کو نکال دے تو ایسا شخص اگر وقت پر ادا نہ کر سکے تو وہ بد دیانت نہیں اور نہ ہی اس پر جھوٹ کا گمان ہو سکتا ہے۔کیونکہ اسے صحیح طور پر امید تھی۔مگر وہ پوری نہ ہوئی۔یا اگر ایک شخص کا کسی اور شخص نے دینا تھا اور وہ شخص اس بناء پر کسی اور سے کچھ لے لیتا ہے مگر جو وعدہ کرتا ہے اس پر وہ ادا نہیں کر سکا کیونکہ جس سے اسے لینا تھا اس نے اپنے وعدہ پر نہ دیا تو یہ شخص بھی بد دیانت نہیں کہلا سکتا۔یا باوجود روپے کے ملنے کے صریح قرائن ہونے کے اس کو کوئی اور مشکل آگئی۔جس کے سبب وہ اپنا قرض ادا نہ کر سکا تو یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ نادہندہ ہے اس کو تو خود مصیبت آگئی۔لیکن ایک اور شخص بھی ہے جس نے کسی دوسرے سے فی الواقع کچھ لیتا ہے مگر اس کا مقروض سخت نادہندہ کے قرضہ کو مد نظر رکھ کر کچھ لیتا ہے۔تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ وہ لیکر دینا نہیں چاہتا۔کیونکہ اس کا یہی مطلب ہے۔کہ نہ میرا قرض ملے گا اور نہ میں دوں گا۔غرض اس قسم کی بہت سے صورتیں ہیں۔جن میں قرضہ لینا درست نہیں مگر پھر بھی ایک شخص لیتا ہے اور