خطبات محمود (جلد 10) — Page 161
161 چھوٹ نہ جائے۔ اس وقت میں احباب لاہور کو اس طرف بھی توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ دینی امور میں پنشن نہیں ملا کرتی۔ یعنی یہ نہیں کہ ایک وقت تک کام کر کے پھر کام کرنے کی ضرورت نہ رہے۔ مگر میں نے بہت لوگوں کو دیکھا ہے۔ ایک وقت تک کام کرتے رہتے ہیں۔ اور پھر ان میں سستی آجاتی ہے۔ ایسے لوگوں سے میں یہ کہہ کر بری الذمہ ہوتا ہوں کہ دینی کاموں میں کوئی پنشن نہیں۔ موت تک تو یہاں نہیں۔ اور پھر قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے۔ کہ اصل دار العمل دو سرا جہان ہی ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ ما خلقت الجن والانس الا ليعبدون (الذاريات (۵۷) ہم نے انسان کو اپنا غلام بننے کے لئے پیدا کیا ہے۔ اب بتاؤ کیا کبھی غلام کو بھی پنشن ملی ہے۔ پنشن نوکر کے لئے ہوتی ہے۔ غلام کے لئے نہیں ہوتی۔ غلامی موت سے ہی ختم ہوتی ہے۔ لیکن کیا کوئی یہ چاہتا ہے کہ مر جاؤں۔ اگر یہ نہیں چاہتا تو پھر اس کا کام کس طرح ختم ہو سکتا ہے۔ پس میں دوستوں کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ سستیوں کو چھوڑ دیں۔ اور اصلاح پیدا کریں میں اللہ تعالی سے دعا کرتا ہوں کہ سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔ چونکہ لاہور کی جماعت کے مہمان ہونے کی وجہ وجہ سے اس کا ہم پر خاص حق ہے۔ اس لئے اس کے لئے خاص طور پر دعا کرتا ہوں۔ پھر باہر کے احباب جو اخلاص سے یہاں آئے ہیں۔ اور اپنا کام چھوڑ کر یہاں آئے ہیں۔ ان کے لئے بھی دعا کرتا ہوں۔ اور پھر سب جماعت کے لئے دعا کرتا ہوں کہ جو تعلیم خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کے ذریعہ دی ہے اس کو صحیح طور پر جذب کریں۔ تا اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث ہوں۔ اس کی محبت کا جامہ پہن لیں۔ اس کی رضا کی گھڑیاں میسر ہوں۔ اس دنیا کی زندگی بھی خدا کے لئے ہو۔ اور پھر جو زندگی ہو وہ بھی خدا کے لئے ہو۔ ا بخاری کتاب الاستقراض باب العبد راع في مال سيده الفضل امتی ۱۹۲۶ء)