خطبات محمود (جلد 10) — Page 151
151 خوب کی جائے لیکن موسم اور وقت کا لحاظ کر کے بیج نہ بویا جائے تو بھی کھیتی نہ ہو گی۔جب تک اس چیز کو جسے اگانا منظور ہو اپنے وقت اور موسم میں نہ بویا جائے کھیتی سے اچھا پھل پیدا نہیں ہو گا۔بسا اوقات تو بے موسم کا ڈالا ہوا پیج بالکل ضائع ہو جائے گا۔بسا اوقات روئیدگی تو اُگے گی لیکن خشک ہو کر برباد ہو جائے گی۔جس طرح ایک کھیتی کو جب تک صحیح طریقوں کے ماتحت بویا نہ جائے اس میں کبھی اعلیٰ غلہ نہیں پیدا ہوتا اور اس کے کاٹنے میں کوئی کامیاب نہیں ہو سکتا۔یہی چار باتیں دنیا کے تمام کاموں میں ضروری ہوتی ہیں۔اور کوئی سلسلہ کوئی تعلیم اور کوئی جماعت دنیا میں پھیل نہیں سکتی۔جب تک اچھا بیج نہ ہو۔یعنی ایسی تعلیم نہ ہو جسے طبائع قبول کرنے کے لئے تیار ہوں۔ایک : سلسلہ کی تعلیم کھیتی کے بیج سے مشابہت رکھتی ہے جس طرح ایک عمدہ زمین گندے پیج کو لیکر اعلیٰ کھیتی پیدا نہیں کر سکتی اسی طرح اعلیٰ قومیں بھی گندی اور ناقص تعلیم کو لیکر اعلیٰ نتیجہ نہیں پیدا کر سکتیں۔دیکھو یورپ کے لوگ تمدن تعلیم اور تربیت کے لحاظ سے ایشیائیوں سے بہت بڑہے ہوئے ہیں۔مگر باوجود اس کے کہ وہ رات دن اصلاح کی کوشش کرتے رہتے ہیں اور اس درجہ تک اخلاقی اصلاح وہ نہیں کر سکتے جس کی انہیں خواہش ہے۔اس کی وجہ یہ نہیں کہ زمین اچھی نہیں یا اس کی تیاری اچھی نہیں۔زمین بھی اچھی ہے۔تیاری بھی عمدہ ہے۔لیکن جو بیج اس میں ڈالا جاتا ہے وہ کرم خوردہ اور ناکارہ ہے۔اور اب تازہ بیج وہ ہے جو محمد ال لائے۔مگر وہ لوگ حضرت مسیح کے زمانہ کا بیج بو رہے ہیں۔جس کا نتیجہ اچھا نہیں ہو سکتا۔وہ متواتر اپنی حالت درست کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اور اس کے لئے ایسی ایسی محنتیں کرتے ہیں کہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔ہزارہا کی تعداد میں ان میں ایسے لوگ ہیں جو اپنے مال و دولت عزت و آسائش کو لات مار کر عیسائیت کی اشاعت کے لئے گھروں سے نکل کھڑے ہوتے ہیں اور ظاہری طور پر ان کے اخلاق ایسے ہوتے ہیں کہ لوگ انہیں گالیاں دیتے ہیں مگر وہ ہنستے رہتے ہیں۔باجود اس کے وہ روحانیت میں گرے ہوتے ہیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ پیج اچھا نہیں ہے۔تو روحانی سلسلوں کے لئے ضروری ہے کہ اعلیٰ تعلیم ہو۔دوسری خوبی زمین کی خوبی ہے۔اگر زمین اچھی نہ ہو تو اعلیٰ بیج بھی کوئی فائدہ نہیں دے سکتا۔خراب زمین میں اگر اعلیٰ بیج بھی ڈالا جائے گا تو وہ اسے ضائع کر دے گی۔اس کی مثال روحانیت کے لحاظ سے یہ ہے کہ جن لوگوں کے سامنے وہ تعلیم پیش کی جائے ان میں اگر اس تعلیم کو قبول کرنے کی قابلیت نہ ہو تو اعلیٰ نتیجہ پیدا نہ ہو گا۔دیکھو رسول کریم ﷺ کے وقت وہی قرآن تھا جس نے ابو بکر - عمر عثمان اور علی جیسے انسان پیدا کر دیئے۔یا یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ