خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 152 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 152

152 جس نے محمد ال جیسا انسان پیدا کر دیا کیونکہ آپ بھی اس پر عمل کرنے سے رسول بنے۔بے شک قرآن آپ پر نازل ہوا۔مگر اس میں بھی شک نہیں کہ خدا تعالیٰ کہتا ہے۔کہو انا اول المومنین (الاعراف (۱۴۴) میں سب سے پہلے ایمان لانے والا ہوں۔تو یہ قرآن ہی کا اثر تھا۔کہ محمد اے جیسا انسان پیدا ہوا۔اور ابو بکر - عمر - عثمان اور علی جیسے انسان پیدا ہوئے پھر بعد میں قرآن ہی کے ذریعہ ہزاروں اور لاکھوں اولیاء اللہ پیدا ہوئے لیکن یہی قرآن جب ابو جہل - عتبہ اور شیبہ جیسے لوگوں کے سامنے پیش کیا گیا تو وہ کہنے لگے اس کو بدل کر کوئی اور لاؤ تو ہم مانیں گے۔ورنہ ایسی بے ہودہ تعلیم کو ہم ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔يضل به كثيرا " و يهدی به کثیرا " اچھی زمین میں جب اچھا بیج پڑتا ہے تو سبزی پیدا ہوتی ہے اور اگر بری زمین میں پڑتا ہے تو بری صورت میں تبدیل ہو جاتا ہے۔دیکھو محمد ا اسی قرآن کو پڑھ کر ایسے ایسے معارف اور حقائق بیان فرماتے تھے کہ دنیا عش عش کر اٹھی۔لیکن ابو جہل اسی قرآن کو ایسے گندے رنگ میں پیش کرتا کہ کوئی شریف آدمی اسے سننے کے لئے بھی تیار نہ ہو سکتا۔اس کی وجہ یہ نہیں تھی۔کہ قرآن شریف میں متضاد باتیں تھیں۔محمد الیا اور الفاظ پڑھتے تھے اور ابو جہل وغیرہ اور بلکہ یہ وجہ تھی کہ ایک ہی بیچ دو مختلف قسم کی زمینوں میں جب پڑا تو اچھی زمین سے اچھا پھل پیدا ہو گیا اور بری زمین سے برا۔تیسری چیز زمین کی تیاری اور وقت کی نگہداشت ہوتی ہے۔قوموں میں ہل چلانے کے کیا معنی ہوتے ہیں۔یہی کہ ان کے قومی کی نگرانی اور تربیت کی جائے اور وقت پر پانی دینے کا کیا مطلب ہوتا ہے۔یہی کہ صحیح اور عمدہ تعلیم دی جائے۔یہ پانی دینے کے مشابہ ہے۔اور زمین کو ہل چلا کر نرم کرنا اور سوہا کہ پھیر کر ڈھیلے توڑنا تربیت کے مشابہ ہے۔پس کسی قوم کی صحیح تعلیم و تربیت کھیتی میں ہل چلانے اور پانی دینے کے مشابہ ہے۔اس کے بغیر بھی کوئی قوم کوئی ترقی نہیں کر سکتی۔چوتھی چیز یہ ہے کہ وقت پر بیج بویا جائے۔یہ روحانی معاملات پر اس طرح چسپاں ہوتا ہے کہ ٹھیک وقت اور محل و موقع پر کام کرنے سے نیک نتیجہ نکلے گا۔اعلیٰ تعلیم اگر اس وقت پیش کی جائے جب قلوب اسے قبول کرنے کے لئے تیار نہ ہوں۔زمانہ میں ایسی لہر نہ چلی ہو جس نے اس تعلیم کے متعلق ہلچل پیدا کر دی ہو تو کوئی اسے قبول نہیں کر سکتا۔دیکھو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب دعویٰ کیا تو لوگوں نے مخالفت بھی کی لیکن ماننے والوں نے مان بھی لیا مگر آج بھی آپ کے دعوئی کو دیکھ کر کئی لوگ نبوت کے مدعی کھڑے ہوئے ہیں۔وہ بہت کچھ کوشش بھی کرتے ہیں۔اشتہار ٹریکٹ