خطبات محمود (جلد 10) — Page 146
346 طرف توجہ دلاتا ہوں کہ ہمیشہ سچی کامیابی روحانیت سے حاصل ہوتی ہے۔مگر جس ایمان کا نتیجہ آخر میں بگاڑ اور شقاق اور اختلاف ہو معلوم ہوا وہ حقیقی ایمان نہ تھا۔اس میں کوئی عیب کوئی کمزوری اور کوئی نقص ضرور تھا۔میں نے بہت دفعہ تحقیق کر کے دیکھا ہے جتنے جھگڑے اور اختلاف ہوتے ہیں ان کی وجہ ایسی حقیر اور معمولی ہوتی ہے کہ حیرت آتی ہے عقلمند انسان کس طرح اس کی بنا پر جھگڑا پیدا کر سکتا ہے۔اور جب کوئی سمجھدار اور معاملہ فہم شخص اس جھگڑے کے فیصلہ کے لئے بھیجا گیا تو بہت جلدی اس کا خاطر خواہ فیصلہ ہو گیا۔اس وقت وہی لوگ حیرت سے کہتے ہیں۔بہت جلدی فیصلہ ہو گیا۔حالانکہ فیصلہ جلدی ہونے پر تعجب نہیں۔تعجب اس بات پر ہوتا ہے کہ اس معمولی سی بات پر لڑائی اور جھگڑا کیوں ہوا۔بات یہ ہوتی ہے کہ جب ایک سمجھ دار شخص اس معالمہ کو ان کے سامنے رکھتا ہے تو چونکہ وہ بہت معمولی ہوتا ہے۔اس لئے ان لوگوں کی فطرت اور عقل ان کو ملامت کرتی ہے کہ اتنی سی بات پر لڑائی جھگڑا کیا۔اور ان کے دل صاف ہو جاتے ہیں۔اس وقت وہ سمجھتے ہیں۔خاص طور پر ایسے ذرائع پیدا ہو گئے ہیں کہ معاملہ کا با آسانی فیصلہ ہو گیا۔حالانکہ اصل بات یہ ہوتی ہے کہ فساد اور لڑائی کا موجب بہت کمزور ہوتا ہے اور جب اس کی کمزوری بتا دی جاتی ہے۔تو فساد دور ہو جاتا ہے۔بیسوں واقعات جو میرے سامنے آتے ہیں۔ان میں شاذ ہی کوئی ایسا ہوتا ہے۔جس میں حقیقی نقص نظر آئے۔عموما" نہایت چھوٹی چھوٹی اور حقیر باتوں پر اختلاف پیدا ہو جاتا ہے۔جو بڑھتا بڑھتا یہاں تک بڑھ جاتا ہے کہ اکٹھے نمازیں پڑھنا چھوڑ دیتے ہیں۔آپس میں بولنا چھوڑ دیتے ہیں۔یہ نتیجہ ہوتا ہے اس بات کا کہ ایسے لوگوں نے اسلام کے مغز اور روح کو نہیں سمجھا ہوتا۔جو یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو انسان اپنے بھائی کے قصور معاف کرے۔عفو اسلام کا مغز اور روح ہے سزا محض شرطی طور پر جائز ہے۔اور اس وقت جائز ہے جب سزا کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو۔اور اس کے بغیر فتنہ پیدا ہوتا ہو۔لیکن نہایت عجیب بات ہے کہ لوگ خیال کرتے ہیں اپنا حق لینا خواہ جبری طور پر ہی لینا پڑے اصل حکم ہے۔حالانکہ اصل حکم عفو ہے۔اسلام کہتا ہے جب انسان کسی پر رحم کر سکتا ہے۔عفو کر سکتا ہے۔تو معاف کرے۔ایک ہی موقعہ پر اپنے حق کا مطالبہ جائز ہوتا ہے۔جب کہ فتنہ و فساد کا ڈر ہو۔مگر اس کے لئے بھی قواعد ہیں۔اور ان کی پابندی ضروری ہے۔جب کوئی دیکھے کہ فلاں نے مجھ پر زیادتی کی ہے اور وہ اس میں بڑھتا جاتا ہے۔تو اس کی طرف اوپر کے افسروں اور ذمہ ودار لوگوں کو توجہ دلائے۔اسے یہ حق حاصل نہیں کہ اس معاملہ کو اپنے ہاتھ میں لے لے۔ہماری