خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 143 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 143

143 موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی ہماری ترقیات کا زمانہ ۳۰۰ سال بعد بتایا ہے۔اس لحاظ سے ۳۰۰ سال میں نسلاً بعد نسل قربانیوں کے بعد جاکر ترقی اور اقبال کا زمانہ ہم پر آسکتا ہے۔اس لئے ہمارے لئے ضروری ہے کہ اس عرصہ تک ہم برابر اپنے مالوں کو اپنی جانوں کو اپنی آبروؤں کو اپنے جذبات اور احساسات کو اپنی قومیت اور انفرادیت کو قربان کرتے چلے جائیں اور اس بات کی پرواہ نہ کریں کہ ہماری قربانیوں کا نتیجہ کب نکلے گا۔اور بعد میں آنے والوں کی ترقی ہو گی تو ہمیں کیا۔کیونکہ اس وقت ہماری ہی ترقی کہلائے گی۔دیکھو محمد رسول اللہ ﷺ نے کس قدر قربانیاں کیں۔لیکن کیا آپ کی قربانیوں کا نتیجہ آپ کی زندگی میں ہی نکل آیا تھا۔اور پھر کیا وہ ترقی جو آپ کے بعد آپ کی قوم کو حاصل ہوئی وہ آپ کی ترقی نہیں کہلاتی کیا کوئی کہہ سکتا ہے۔کہ محمد رسول اللہ نعوذ بااللہ آج مردہ ہیں ہرگز نہیں کیونکہ اگر کوئی صحیح معنوں میں زندہ ہے تو حضرت نبی کریم ہی ہیں۔اور مسلمانوں کی تمام تر ترقیوں کا باعث آپ ہی کی قربانیاں ہیں۔کیا بنو عباس کی حکومت ان کی اپنی تلواروں کا نتیجہ تھی۔ان کی تلواروں کا نتیجہ نہیں تھی۔بلکہ وہ صحابہ کی تلواروں کا نتیجہ تھی۔اور یہ خیال کہ ہم مر گئے تو ہمیں کیا۔یہ خیال یا تو کمی محبت کا نتیجہ ہے یا جنون کا نتیجہ کیا کبھی کوئی ماں بھی یہ کہتی ہے کہ میں بچہ کی کیوں پرورش کروں اس کے بڑھنے اور ترقی کرنے سے مجھے کیا۔بلکہ اسے اگر کوئی کہے کہ تو کیوں بچہ کی پرورش کرتی ہے۔تجھے اس سے کیا فائدہ؟ تو وہ بد دعائیں دینے لگ جائے گی سچی محبت میں تو انسان چاہتا ہے کہ کاش! میں مرجاؤں لیکن میرا محبوب زندہ رہے پس جن لوگوں کو اسلام سے سچی محبت ہے وہ کبھی اس قسم کا وسوسہ نہیں پیدا کر سکتے۔کہ ہم اگر قربان ہو جائیں گے تو ہمیں کیا ملا۔دیکھو عرب کے لوگ جو جاہل تھے۔وہ بھی اس بات کو سمجھتے تھے کہ جو شخص اپنی قوم اور خاندانوں کے لئے مارا جائے۔اس کا اگر بدلہ لینے والا کوئی ہو تو وہ مردہ نہیں ہوتا۔بلکہ در حقیقت زندہ ہوتا ہے۔قرآن کریم نے بھی اس اصول کو لیا ہے۔کہ جو لوگ خدا کی راہ میں قربان ہو جاتے ہیں انہیں مردہ مت کہو بلکہ زندہ ہیں۔اب کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ اتنا نعوذ باللہ دنیا سے ناکام گئے یا کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ حضرت امیر حمزہ دنیا سے ناکام گئے۔پھر کون کہہ سکتا ہے کہ احد میں جان دینے والے صحابہ ناکام چلے گئے۔وہ تو آج تک زندہ ہیں۔اور ہمیشہ زندہ رہیں گے۔جبکہ ساری ترقیات ان کے خون سے سیراب ہونے کے نتیجہ میں مسلمانوں کو حاصل ہوئی ہیں۔میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اندر محبت اور کچی قربانی کا جذبہ پیدا کرے۔ہماری زندگیاں اس وقت تک زندگیاں کہلا سکتی ہیں۔جب تک سلسلہ کی ترقی میں خرچ ہوں۔الفضل ۳۰ اپریل ۱۹۲۶ء)