خطبات محمود (جلد 10) — Page 121
121 13 رمضان المبارک کی برکات (فرموده ۲ اپریل ۱۹۲۶ء) ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : رمضان المبارک کا مہینہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت سی برکات لے کر آتا ہے۔میں نے پچھلے جمعہ کے خطبہ میں بتایا تھا کہ در حقیقت رمضان میں انسان ان صفات میں کہ جن میں بشریت بالکل ممتاز ہوتی ہے۔اور الگ نظر آتی ہے۔اپنے مولا اور اپنے پیدا کرنے والے کی مشابہت پیدا کرتا ہے اور اس طرح یہ سبق حاصل کرتا ہے۔کہ اگر انسان ان صفات میں خدا تعالیٰ کے مشابہ ہونے کی کوشش کرتا ہے۔بوجہ محبت اور اخلاص کے جن میں اس کی بشریت بالکل ممتاز ہے۔تو کیا وجہ ہے کہ ان صفات میں مشابہ ہونے کی کوشش نہ کرے۔جن میں وہ خدا تعالیٰ کے مشابہ ہو سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ سمیع ہے۔اور انسان بھی سمیع ہو سکتا ہے۔لیکن اپنی طاقت کے دائرہ کے اندر اندر۔اسی طرح خدا تعالی بصیر ہے۔اور انسان بھی بصیر ہو سکتا ہے۔سمع کی طاقت کا پیدا کرنا انسان کی زندگی اور بشریت کے خلاف نہیں ہے۔بلکہ عین مطابق ہے۔اسی طرح انسان کا علیم ہونے کی کوشش کرنا اس کی زندگی کو تباہ نہیں کرتا۔بلکہ اس کے لئے ضروری ہے۔لیکن خدا تعالٰی کی یہ صفت کہ وہ کھاتا پیتا نہیں اگر انسان حاصل کرنا چاہے تو مر جائے گا۔کیونکہ انسان کی بناوٹ ہی ایسی ہے کہ اگر وہ اس بارے میں خدا تعالیٰ کی نقل کرے گا تو تباہ ہو جائے گا۔اسی طرح خدا تعالیٰ کی یہ صفت ہے کہ وہ جوڑے کا محتاج نہیں۔لیکن اگر انسان اس میں خدا تعالیٰ کی مشابہت اختیار کرنا چاہے تو اس کی نسل مٹ جائے گی۔پھر کیا یہ عجیب بات نہیں ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت وہ صفات تو پیدا کرنے کی کوشش کرے کہ اگر ان میں پوری پوری نقل کرے تو تباہ و برباد ہو جائے۔مگر ان صفات کو پیدا کرنے کی کوشش نہ کرے۔جن کے پیدا کرنے سے وہ نہ صرف تباہ نہیں