خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 113 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 113

113 خدمت سے تنگ آنے کے کیا معنی۔اس سے تنگ آنے کے تو یہی معنی ہو سکتے ہیں کہ تم نے اسے سوتیلا بچہ بلکہ اجنبی بچہ سمجھا اور معلوم ہوا کہ احمدی بننے میں ایک رو میں بہ گئے تھے۔ورنہ حقیقی ایمان تم نے حاصل نہیں کیا۔اس وقت میں قادیان کے دوستوں کو خصوصا اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے اعمال اور افعال میں بہت زیادہ تبدیلی کریں۔کیونکہ باہر کے لوگ آپ لوگوں کو اپنے لئے نمونہ سمجھتے ہیں۔اور آپ لوگوں کی کمزوریوں کو دین کی طرف منسوب کرتے ہیں۔حالانکہ آپ لوگ دین نہیں ہیں۔مگر مرکز میں رہنے کی وجہ سے ایسا سمجھتے ہیں۔اس لئے آپ لوگ اپنے ایمان کی حفاظت اور اسلام کی اشاعت کے لئے سب سے بڑھکر قدم اٹھائیں۔اسلام اور ایمان کے یہ معنی نہیں کہ تم اپنے وطن چھوڑ کر آجاؤ۔یا نمازیں پڑھتے رہو۔جب تک تم سچے مومن اور خدا اور رسول کے فرمانبردار نہ بنو گے تمہاری ہر بات خدا کے لئے نہ ہوگی۔اس وقت تک تمہیں ایمان حاصل نہ ہو گا۔چونکہ آپ لوگوں کو دیکھ کر دوسرے لوگوں کو ٹھوکر لگتی ہے۔اس لئے آپ کو بہت احتیاط کرنی چاہئے اور اپنے اعمال کو دوسروں کے لئے نمونہ بنانا چاہئے۔ورنہ جن لوگوں کو آپ کے ذریعہ ٹھوکر لگے گی۔اس کا گناہ بھی آپ پر ہو گا۔کیونکہ جس طرح کسی کو جس کے ذریعہ ہدایت ملتی ہے۔اس کو بھی ثواب پہنچتا ہے۔اسی طرح ٹھوکر کا نقصان بھی اسے ہوتا ہے۔جس کے ذریعہ کسی کو ٹھوکر لگتی ہے۔پس تمہارے اخلاص میں کبھی کمی نہ ہونی چاہئے۔تمہیں فرمانبرداری میں مست نہیں ہونا چاہئے۔تمہاری زبانوں کانوں آنکھوں کو خدا تعالٰی کے احکام کے ماتحت ہونا چاہئے۔تمہیں اپنے معاملات درست رکھنے چاہیں۔اللہ تعالیٰ قادیان والوں کو اور باہر کے لوگوں کو توفیق دے کہ وہ اپنے فرائض کو سمجھیں۔وہ اپنا سب کچھ اسلام کی اشاعت میں لگا دیں۔اور ایسا نہ ہو کہ ان پر کبھی ایسا زمانہ آئے جس کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایک عورت تھی جو سوت کاتی رہی جب سردی کا موسم آیا تو اس نے سوت ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے۔پھر خدا تعالیٰ ہماری جماعت کو اس سے بچائے کہ دشمن کی نظروں میں تو ہم ذلیل سمجھے ہی جاتے ہیں۔خدا کے نزدیک ذلیل نہ ہوں۔ہمارا ایمان اخلاص دل کی خوشی اور مسرت بڑھتی رہے۔اور اللہ تعالیٰ کی رضا بھی بڑھتی رہے۔آج جمعہ کی نماز کے بعد میں چند جنازے پڑھاؤں گا۔ایک تو مولوی عبد الواحد صاحب برہمن برمیہ بنگال کے متعلق تار آئی ہے کہ فوت ہو گئے ہیں۔وہ جماعت کے لئے نہایت قربانی کرنے